انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 435

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۵ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے مسلمانوں میں سید اور ہندوؤں میں برہمن عام طور پر اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہیں۔پس یہ قوموں اور قبائل کی تقسیم اپنے اندر کوئی بزرگی نہیں رکھتی بلکہ یہ تو تعارف کے لئے ہے۔اگر سارے ہی عبدالرحمن نام کے ہوتے ، اگر سارے ہی عبداللہ نام کے ہوتے یا سارے ہی چونی لال یا رام لال نام رکھتے تو پھر پہچان مشکل ہو جاتی اس لئے یہ نام اور قبائل اور وطن وغیرہ ہمارے لئے تعارف میں آسانی پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں ورنہ اسلام کسی انسان کو دوسرے انسان پر محض قبیلہ یا خاندان یا وطن کی وجہ سے برتری نہیں دیتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دلعہ فرمایا کہ عربی شخص کو بھی پرکوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی جھی کرم اللہ علیہ نور کا بھی کوئی نیا نہیںاور نہی تھی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل ہے سب ہی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ دوستی یا عدم دوستی کے امتیاز کو اڑا دیا جائے۔دنیا میں یہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے دوستوں کی مدد کرتے ہیں اور جن لوگوں سے انہیں کوئی اختلاف ہو ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں یہ طریق امن کو برباد کر نے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَعَاوَنُوا عَلَى البرّ والتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا على الاثم والعدوان ۱۳ کہ ہم تمہیں دوستی سے منع نہیں کرتے تم دوستوں کی مدد بے شک کرو مگر وہ نیکی اور تقویٰ کی حدود کے اندر ہو جو حق اُسے پہنچتا ہے وہی اُسے پہنچاؤ یہ نہیں کہ چونکہ دوست ہے اس لئے گناہ اور سرکشی کی حالت میں بھی اس کی مدد کرتے جاؤ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ انصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا کہ تو اپنے بھائی کی مددکر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔صحابہ نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! مظلوم کی مدد تو ہماری سمجھ میں آتی ہے لیکن ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا اس کو ظلم کرنے سے روکو ! یہی اس کی مدد ہے۔۱۴ گویا اپنے بھائی کی مدد کر نا ہر حالت میں تمہارا فرض ہے اگر وہ مظلوم ہے تو ظالم کے ہاتھوں کو روکو اور اگر وہ خود ظالم ہے تو اُسے ظلم کرنے سے روکو۔پس جائز تعاون کے متعلق اسلام حکم دیتا ہے لیکن نا جائز تعاون سے بہت سختی سے روکتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ خوشی کے نشہ میں ہر نا جائز بات نہ مانتے جاؤ۔تیسری بات یہ ہے کہ مالداروں اور غیر مالداروں کے امتیاز کو مٹانے کی کوشش کی جائے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا آفَاءَ اللهُ عَلى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ القُرى فيهِ وَالرَّسُولِ