انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 428

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۲۸ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے دوسرے کو کہنے لگا کہ بتاؤ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی باتوں کا تم پر کیا اثر ہوا ؟ دوسرے نے کہا تو رات کی پیشگوئیاں تو اس پر پوری ہو چکی ہیں۔اس پر وہ کہنے لگا پھر کیا فیصلہ ہے اس نے کہا فیصلہ کیا جب تک دم میں دم ہے اس کو نہیں مانا تو جب انسان ضد پر قائم ہو جائے تو لازمی بات ہے کہ وہ حق کو نہیں پاسکتا۔پس دوسری چیز یہ ہے کہ ہر انسان اپنے دل سے ضد کو نکال دے اور اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کر لے کہ جہاں کہیں مجھے سچائی مل جائے گی میں اسے قبول کرلوں گا۔ضد تبھی پیدا ہوتی ہے جب وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں کسی حالت میں بھی اپنے مذہب کو نہیں چھوڑوں گا۔تیسری ضروری بات یہ ہے کہ اختلاف مذہب کو کبھی وجہ فساد نہ بنایا جائے ہر انسان اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لے کہ تحقیق کر کے کوئی فیصلہ کروں گا۔اگر حق مل گیا تو قبول کرلوں گا اور اگر حق مجھ پر نہ کھلا تو لڑائی جھگڑا نہیں کروں گا بلکہ خاموش ہو جاؤں گا۔جب کوئی شخص تحقیق حق کرے گا تو دو ہی پہلو ہوں گے یا تو اس پر حق کھل جائے گا اور یا نہیں کھلے گا۔اگر وہ اس نیت سے تحقیق حق کرے گا کہ اگر حق کھل گیا تو مان لوں گا اور اگر حق مجھ پر نہ کھلا تو لڑوں گا نہیں تو ایسا شخص صداقت معلوم ہونے پر اسے قبول کرنے سے ہچکچائے گا نہیں اور اگر اسے صداقت نہ ملی تو وہ خاموش ہو جائے گا اور لڑائی جھگڑا کا بازار گرم نہیں کرے گا۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس اختلاف کو برداشت نہ کریں جبکہ پہلے لوگ بھی دوسروں سے اختلاف کرتے چلے آئے ہیں۔جب حضرت کرشن اور حضرت رام چندر جی نے دعویٰ کیا تو کیا انہوں نے پہلے لوگوں سے اختلاف کیا تھا یا نہیں؟ اگر اختلاف کیا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج ان کے ماننے والے اس اختلاف کو برداشت نہیں کرتے اور ٹھنڈے دل سے غور نہیں کرتے۔جب زرتشت نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو کیا انہوں نے پہلے لوگوں سے اختلاف نہیں کیا تھا ؟ اگر اُنہوں نے پہلے لوگوں سے اختلاف کیا تھا تو کیا وجہ ہے آج حضرت زرتشت کے ماننے والے دوسروں کے اختلاف کو برداشت نہیں کرتے۔جب حضرت عیسی اور حضرت موسی نے اپنے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو کیا انہوں نے پہلے لوگوں سے اختلاف کیا تھا یا نہیں؟ اگر اُنہوں نے اختلاف کیا تھا تو کیا وجہ ہے کہ آج ان کے ماننے والے دوسروں کے اختلاف کو برداشت