انوارالعلوم (جلد 18) — Page 427
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲۷ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایک سائنسدان نے ایک لمبی تحقیق کے بعد ایک تھیوری نکالی لیکن کچھ عرصہ کے بعد کسی دوسرے سائنسدان نے اس کی تحقیقات کو غلط ثابت کر دیا اور اس نے ایک جدید تھیوری قائم کر دی مگر باوجود اس کے کہ وہ ایک دوسرے کی تھیوریوں کو غلط ثابت کرتے چلے جاتے ہیں ان میں کبھی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا کہ تم نے میری تھیوری کو کیوں غلط قرار دے دیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح میرا حق ہے کہ میں کبھی کوئی تھیوری نکالوں اسی طرح دوسرے کا حق ہے کہ وہ بھی تحقیقات کرے اور اگر اسے مجھ سے کوئی بہتر چیز معلوم ہوتو وہ بے شک میری بات کو غلط قرار دے دے۔لیکن عام لوگ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہو ہم نے اپنے ماں باپ کے مذہب کو نہیں چھوڑ نا اس لئے وہ دوسرے مذاہب کے خلاف اپنے دلوں میں ضد اور عداوت لئے بیٹھے رہتے ہیں۔پس پہلی بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص تحقیق حق کرے۔دوسری بات یہ ہے کہ ضد نہ کرے اگر تحقیقات کرنے کے بعد اس پر حق کھل جائے تو اسے بخوشی تسلیم کر لے اور اس کے قبول کرنے میں کسی تساہل سے کام نہ لے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ ایک شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ حق بات کیا ہے لیکن وہ اس کے قبول کرنے سے گریز کرے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ حق کے قبول کرنے میں کئی قسم کی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں لیکن ان تکالیف سے ڈر کر حق کو چھوڑ دینا بھی نہایت ہی کم ہمتی ہے۔گلیلیو نے یہ تحقیقات کی کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے جب یہ خبر شائع ہوئی تو پوپ نے اس کے خلاف کفر کا فتویٰ دے دیا کہ یہ بات بائبل کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اس فتوی کی وجہ سے گلیلیو پر لوگوں نے مظالم کرنے شروع کر دیئے۔کچھ مدت تک وہ ان مظالم کو برداشت کرتا رہا آخر تنگ آ کر اس نے کہہ دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ شیطان میرے دماغ پر غالب آ گیا تھا اس لئے میں نے یہ کہہ دیا کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے اس طرح اس کو لوگوں کے مظالم سے تنگ آ کر صداقت کو چھوڑنا پڑا۔اس کے مقابلہ میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے ماننا ہی نہیں چاہے ہمیں صداقت بھی نظر آ جائے۔ہمارے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال موجود ہے آپ کے پاس کچھ یہودی آئے اور انہوں نے آپ سے باتیں کیں جب مجلس سے اٹھ کر باہر نکلے تو ایک