انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 426

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲۶ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے دماغ تو دے دیا لیکن اب اس سے سوچنے اور کام لینے کی ضرورت نہیں۔جب تک انسان میں دماغ موجود ہے اس کو نیکی اور بدی کی پہچان اور حق و باطل میں خود تمیز کرنی چاہئے۔یہ ایک اہم فریضہ ہے جو اس کے ذمہ لگایا گیا ہے۔پس اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ دینی اصولوں میں ماں باپ کا فلسفہ کا فی نہیں بلکہ اس کے متعلق پورے طور پر تحقیقات کرنا تمہارا فرض ہے اور تحقیق حق کر کے کسی مذہب کو ماننا ہی انسان کی جسمانی اور روحانی زندگی کو کوئی فائدہ دے سکتا ہے اور تحقیق کر کے ماننا ہی مذہب کی جان ہے میں نے سینکڑوں مسلمان نوجوانوں سے پوچھا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہوا اور اسلام میں کیا خوبی ہے جس کی وجہ سے تم نے اسے اختیار کیا ہے۔تو وہ جواب دیتے ہیں ہمیں تو پتہ نہیں۔اور میں نے سینکڑوں مسلمان نوجوانوں سے پوچھا ہے کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیوں مانتے ہو؟ کہتے ہیں کبھی غور نہیں کیا۔میں ایک مذہبی جماعت کا امام ہوں اس لئے لوگ مجھ سے اکثر ملنے کے لئے آتے رہتے ہیں اور میں ان سے اس قسم کے سوالات بعض اوقات پوچھ لیتا ہوں لیکن اُن میں سے اکثر یہی جواب دیتے ہیں کہ کبھی غور نہیں کیا۔میں ایسے لوگوں کو کہا کرتا ہوں کہ تم اسلام کے نام پر لڑنا تو شروع کر دیتے ہومگر تم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم مسلمان کیوں کہلاتے ہیں۔اسی طرح میں نے کئی ہندوؤں سے پوچھا ہے کہ آپ کیوں ہندو مذہب کو اختیار کئے ہوئے ہیں کونسی خوبی ہے جو ہندو مذہب میں ہے اور دوسرے کسی مذہب میں نہیں ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے ہندو مذہب کی کوئی کتاب نہیں پڑھی یا ہم نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا۔اب اس قسم کا مذہب نسلی مذہب تو کہلا سکتا ہے لیکن حقیقی مذہب نہیں کہلا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں میں صرف نسلی مذہب رہ گیا ہے اصلی مذہب کی جستجو ان کے دلوں میں نہیں رہی۔پس اسلام اختلاف کو جائز قرار دیتا ہے اور سختی کے ساتھ اس بات سے روکتا ہے کہ اختلاف مذہب کی وجہ سے آپس میں جنگ وجدال کیا جائے۔اصل بات تو یہ ہے کہ جو لوگ تحقیقات کرنے کے عادی ہیں وہ اختلاف کی وجہ سے لڑتے ہی نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب میرا حق ہے کہ میں تحقیق حق کر کے کسی نتیجہ پر پہنچوں تو دوسرے شخص کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ بھی تحقیق کرے۔دیکھ لو سائنسدان کبھی آپس میں اختلاف کی وجہ سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے