انوارالعلوم (جلد 18) — Page 425
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲۵ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے چاہے صحیح نکلے یا غلط بہر حال ہر انسان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ مذاہب کا مطالعہ کرے اور جو مذہب اسے سچا معلوم ہو اسے اختیار کرے۔بغیر تحقیق کے کسی مذہب کو مان لینا انسان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتا ہے کہ تو ان لوگوں کو کہہ دے کہ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي کے یعنی میں اور میرے ماننے والے کیوں حق پر ہیں اس لئے کہ ہم نے اسے بصیرت کے ساتھ قبول کیا ہے لیکن تم اس لئے غلطی پر ہو کہ تم نے بصیرت کے ساتھ اس مذہب کو نہیں مانا بلکہ تم اپنے آباء واجداد کا مذہب سمجھ کر اسے مانتے آ رہے ہو۔تمہارے پاس اس کے سچا ہونے کی کوئی دلیل نہیں خدا کا ایک ہونا درست ہے یا تین خداؤں کا عقیدہ رکھنا درست ہے یہ چیز زیر بحث نہیں بلکہ اصل بات ہے کہ علَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِي هم نے جو کچھ مانا ہے وہ تحقیق کر کے مانا ہے دلائل اور شواہد کے ساتھ مانا ہے حالانکہ ہمارے آباء واجدادان باتوں کو نہیں مانتے تھے لیکن تم جو کچھ مانتے ہو وہ محض آباء واجداد کی اندھا دھند تقلید ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔پس یہ نہایت ضروری امر ہے کہ ہر شخص تحقیقات کے بعدا پنا مذہب خود اختیار کرے۔لیکن جب تحقیق کرنے لگے تو اسے یہ عہد کر لینا چاہئے کہ اگر مجھے حق مل گیا تو میں اس کے قبول کرنے میں ضد اور تعصب سے کام نہیں لوں گا بلکہ اپنی عقل اور فکر سے کام لے کر سوچوں گا کہ ایک بچے مذہب میں جن امور کا پایا جانا ضروری ہے کیا وہ میرے تجویز کردہ مذہب میں بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں اور اگر نہ پائے جائیں تو مجھے اس کے چھوڑنے میں کوئی دریغ نہیں ہو گا۔یہ خیال کر لینا کہ جو کچھ ہمارے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں وہی درست ہے اور اب ہمارا بھی فرض ہے کہ اس کو مانیں اور اپنی ذاتی عقل اور فکر سے کام نہ لیں ایک ایسا خیال ہے جو کسی طرح سے بھی درست نہیں سمجھا جاسکتا۔اگر تمہارے ماں باپ کا مذہب ہی تمہارے لئے کافی ہوتا تو اللہ تعالیٰ تمہیں عقل نہ دیتا بلکہ تمہارا حصہ بھی تمہارے ماں باپ کو دے دیتا جنہوں نے تمہارے متعلق فیصلہ کرنا تھا اور جن کی تم نے پیروی کرنی تھی۔اس لحاظ سے تو عقل کی صرف انہیں ہی ضرورت تھی تمہیں ضرورت نہ تھی پھر تم کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کیوں دیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فعل عبث نہیں ہے بلکہ اس نے تمہیں عقل اس لئے دی ہے کہ تم اس سے کام لو اور اس کے ذریعہ حق و باطل میں تمیز کر سکو۔پس یہ ایک بیوقوفی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے