انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 424

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲۴ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے جائے۔آپ نے اس کو لکھوایا کہ غیر مذہب والے کو اسلام لانے پر مجبور نہ کرو اور نہ ہی اس کو اپنے ملک سے نکالو جو لوگ اپنے مذہب پر رہنا چاہیں انہیں اپنے مذہب پر ہی رہنے دو ہاں ان سے ٹیکس وصول کرو اگر وہ ٹیکس ادا کرتے جائیں تو تمہیں ان پر کسی طرح دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں لیے اسلام کا یہ طریق بتاتا ہے کہ اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور اسلام میں داخل ہو بلکہ وہ اختلاف کو برداشت کرتا ہے۔پس فساد کی وجہ صرف اختلاف نہیں بلکہ ایسا اختلاف ہے جس کے چھوڑنے کے لئے دوسرے کو مجبور کیا جائے اور دوسروں کو اپنے اندر شامل رہنے پر مجبور کیا جائے۔دوسروں کو اپنے اندر شامل رکھنے کے لئے مجبور کرنا بظاہر اتحاد نظر آتا ہے مگر یہی چیز فساد کا منبع ہے۔جب کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف دیتے تھے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم اختلاف کو دور کرنا چاہتے اور قوم میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔جب حضرت موسیٰ کی قوم کو فرعون نے تکلیفیں دیں تو وہ بھی یہی دعویٰ کرتا تھا کہ میں قوم کو متحد کرنا چاہتا ہوں اور قوم کو ایک کرنا چاہتا ہوں لیکن حضرت موسیٰ اور اس کے ساتھی قوم کے لئے افتراق کا باعث بن رہے ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی اسی لئے تکالیف دی گئیں کہ یہ شخص قوم میں اختلاف کی روح پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس طرح قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اسے اس کام سے باز رکھنا چاہئے۔تو دعویٰ سب کا یہی تھا کہ ہم اختلاف کو دور کرنا چاہتے ہیں اور قوم کو ایک کرنا چاہتے ہیں مگر کسی قوم کا جبری طور پر اختلاف کو مٹانا ہی فساد کا موجب ہے۔جب ایک شخص کسی اصولی بات پر دل سے قائم ہے تو وہ اسے جبراً چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور جب اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس بات کو چھوڑے تو لازمی بات ہے کہ لڑائی ہوگی اور وہی بات جو بظا ہر اتحاد کا ذریعہ نظر آتی ہے فساد اور جھگڑے کا موجب بن جائے گی۔اگر کوئی شخص سوال کرے جب مذہب ایک نہیں ہوسکتا اور یہ چیز امن کے لئے ضروری ہے تو پھر کیا کیا جائے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اول ہم میں سے ہر آدمی اپنے اندر تحقیق کا مادہ پیدا کرے اور ہر شخص بغور دیکھے کہ جس مذہب کو وہ مانتا ہے کیا اس کے پاس واقعہ میں اس مذہب کے سچا ہونے کے دلائل بھی موجود ہیں یا اندھا دھند والدین کی تقلید کر رہا ہے وہ اپنے مذہب کو بھی دیکھے اور غور کرے اور دوسرے مذاہب کا بھی مطالعہ کرے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرے۔اس کے سوچ بچار اور تحقیقات کا نتیجہ