انوارالعلوم (جلد 18) — Page 423
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲۳ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے ہوتی ہیں اور مختلف کھانوں کو پسند کرتی ہیں۔کوئی کدو نہیں کھاتا اور کوئی آلو نہیں کھاتا اور کوئی کریلے نہیں کھاتا اور کوئی دودھ کو پسند کرتا ہے اور کوئی چائے کو پسند کرتا ہے اور کوئی لسی کو پسند کرتا ہے لیکن کیا ان باتوں پر گھروں میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔گو بعض اوقات ہو بھی جاتی ہیں لیکن وہ صرف اس صورت میں ہوتی ہیں کہ کوئی شخص گھر والوں کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ باقی سب چیزیں چھوڑ کر فلاں چیز ہی پکایا کریں ایسی صورت میں لڑائی کا امکان ہے لیکن اس کا یہ مطالبہ بالکل احمقانہ ہوتا ہے۔پس اختلاف کو برداشت کرنا بھی امن کا ذریعہ ہے۔دنیا میں امن پیدا کرنے کے دو ہی ذریعے ہیں کہ یا تو اختلاف کو مٹا دیا جائے اور مکمل اتحاد کی صورت پیدا کر لی جائے اور یا پھر اس اختلاف کو برداشت کیا جائے۔دنیا میں جب بھی نبی آتے ہیں تو لوگ ان کو مارتے اور دکھ دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس اختلاف کو برداشت نہیں کر سکتے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی لڑائی یہودیوں سے اس لئے نہ تھی کہ تم مجھے ضرور مانو بلکہ اس لئے تھی کہ یہودی آپ کو مجبور کرتے تھے کہ تم اپنا مذہب چھوڑ دو اور یہ اختلاف پیدا نہ کرو۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ والوں سے لڑائی اس لئے نہ تھی کو تم مجھے ضرور ما نو بلکہ اس لئے تھی کہ مکہ والے آپ کو اس بات پر مجبور کرتے تھے کہ تم اپنا مذہب چھوڑ دو اور ہماری قوم میں اختلاف پیدا نہ کرو ہم تمہارے اس اختلاف کو کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے۔یہی وجہ لڑائی کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون نے پیدا کی اور یہی وجہ ہندوستان کے نبی کرشن اور رام چندر کے زمانہ میں ان کے دشمنوں نے پیدا کی اور یہی وجہ ایران کے نبی زرتشت کے زمانے میں ان کے دشمنوں نے پیدا کی اور یہی وجہ چین کے نبی کنفیوشس کے زمانہ میں ان کے دشمنوں نے پیدا کی تمام زمانوں میں انبیاء سے لڑائی کی وجہ یہی تھی حالانکہ نبیوں نے کسی کو اپنے ماننے کے لئے مجبور نہیں کیا ہاں دشمن مجبور کرتے تھے کہ تم اپنا دعویٰ چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عرب میں غلبہ عطا کیا تو آپ نے بحرین کے بادشاہ کے پاس وفد بھیجا اور ساتھ ہی اپنا ایک خط بھی دیا جس کی بناء پر وہ مسلمان ہو گیا جب وہ مسلمان ہو گیا تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خط لکھا کہ میرے علاقہ میں جو عیسائی اور مجوسی وغیرہ رہتے ہیں ان سے کیا سلوک کیا