انوارالعلوم (جلد 18) — Page 420
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۲۰ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے لوگوں کو نکما کر کے ہم پورے طور پر ان ملکوں پر قابض ہو جائیں لیکن آسمان کی حکومت ان کے ساتھ نہیں تھی اس لئے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اگر وہ ان ممالک کے متعلق آسمان سے فیصلہ کرا دیتے کہ ان ملکوں کے باشندوں کی اولادیں بند ہو جائیں اور ان کی نسلیں منقطع ہو جائیں تو پھر یہ ہو سکتا تھا لیکن آسمان کی حکومت ان کے ساتھ نہیں تھی اس لئے بجائے اس کے کہ ہندوستان کی نسل بند ہوتی پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی۔جس وقت انگریز ہندوستان میں آئے تھے اس وقت ہندوستان کی آبادی بیس کروڑ تھی اور اب چالیس کروڑ ہے گویا پہلے کی نسبت دگنی آبادی ہوگئی کیونکہ آسمانی بادشاہت کا یہ حکم تھا کہ ان کی نسلیں بڑھیں۔اسی طرح انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ تو کر لیا لیکن ذہنیتوں کو غلام نہ بنا سکے۔ہاں اگر آسمان کی حکومت ان کے ساتھ ہوتی اور وہ فیصلہ کر دیتی کہ آئندہ جتنے بچے پیدا ہوں ان سب کی ذہنیت غلامانہ بنادی جائے تو پھر کو ئی شخص اس غلامی کو دُور نہ کر سکتا۔بے شک یورپ اور امریکہ نے مختلف ملکوں پر قبضہ کر لیا لیکن ذہنیتوں کو غلام نہیں بنا سکے کیونکہ پیدائش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اگر اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کی ذہنیت غلامانہ بنا دیتا تو کوئی بھی بغاوت نہ کرتا۔مثلاً کتے ، گھوڑے، گدھے اور بیل سب اسی طرح کام کرتے چلے جاتے ہیں جس طرح آسمانی آقا نے انہیں حکم دیا ہے تم نے کبھی نہیں دیکھا کہ کتوں ، گھوڑوں اور بیلوں نے کبھی بغاوت کی ہو۔وہ کوڑے کھاتے ہیں مگر پھر بھی محبت کرتے ہیں کیونکہ آسمان نے انہیں اسی لئے بنایا ہے جس غرض کے لئے زمین تقاضا کرتی تھی۔زمین چاہتی تھی کہ گھوڑا اپنے مالک کی فرمانبرداری کرے آسمان نے بھی اسے اسی مقصد کے لئے پیدا کیا، زمین چاہتی تھی کہ کتنا مالک کے گھر کا پہرہ دے۔آسمان نے بھی اُسے اُسی کام کے لئے پیدا کیا اس لئے اُن میں بغاوت کا مادہ نہیں لاکھوں ہزاروں سالوں سے یہ اسی طرح کام کرتے آرہے ہیں اور ان میں کوئی تغیر نہیں ہوا کیونکہ انسان نے چاہا کہ وہ کتے پر حکومت کرے آسمانی بادشاہت نے کہا ہاں بیشک حکومت کر وانسان نے چاہا کہ گھوڑے پر حکومت کرے آسمانی بادشاہت نے کہا ہاں بے شک حکومت کرو، ہم نے اسی لئے اس کو پیدا کیا ہے، انسان نے چاہا بیل سے کھیتی باڑی کا کام لے آسمانی بادشاہت نے کہا ہاں بے شک اس سے کام لو۔پس جب آسمانی اور زمینی بادشاہت کا منشاء