انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 421

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۲۱ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے ایک ہو جاتا ہے تو کوئی فساد پیدا نہیں ہوتا اور کوئی بغاوت نہیں ہوتی لیکن آسمانی بادشاہت نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ انسان میرے سوا کسی دوسرے کا غلام بن کر نہ رہے۔دنیا کے بادشاہوں نے انسان کو غلام بنانے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کئے ہیں لیکن کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ آسمانی بادشاہت کا منشاء یہ نہیں۔زمینی بادشاہوں نے محکوم قوموں کی اولادوں کی عقلوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ، نئے نئے فلسفے ان کے سامنے رکھے تا کہ آزادی کا خیال ان کے دلوں سے مٹ جائے مگر بالکل اسی طرح جس طرح پانی کی بھری ہوئی مشک کے سوراخ سے پانی اُچھل کر نکلتا ہے اور سوراخ زیادہ ہوتا جاتا ہے یہی حال انسان کی آزادی کا ہے جتنا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اتنی ہی بغاوت پیدا ہوتی ہے۔پس حقیقی امن نہیں ہوسکتا جب تک آسمان اور زمین کی بادشاہت ایک نہیں ہو جاتی یا خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین پر غالب آ جائے یا شیطان کی حکومت آسمان پر غالب آ جائے لیکن شیطان آسمان پر غالب نہیں آ سکتا ہاں اللہ تعالیٰ کی حکومت زمین پر غالب ہو سکتی ہے۔جس طرح آسمان اور زمین کی بادشاہتیں آپس میں اختلاف رکھتی ہوں تو امن قائم نہیں ہو سکتا اسی طرح اگر دنیا کی مختلف حکومتیں آپس میں اختلاف رکھتی ہوں تو امن نہیں ہوسکتا کیونکہ امن اور ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مختلف اشیاء کا تبادلہ ہو سکے اور وہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاسکیں اور یہ فطرتی تقاضا ہے کہ لوگوں کو ان کی ضروریات آسانی سے ملتی رہیں لیکن چونکہ دنیا میں مختلف حکومتیں ہیں اس لئے ان کے مقاصد الگ الگ ہیں ، ان کے ترقیات کے معیار الگ الگ ہیں ، ان کے منافع الگ الگ قسم کے ہیں اس لئے اس اختلاف کی وجہ سے لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔پس اصل سوال یہ ہیں۔(۱) کہ کیا ساری دنیا پر خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسکتی ہے یعنی کیا ساری دنیا ایک مذہب پر قائم ہوسکتی ہے؟ (۲) کیا دنیا میں ایک حکومت قائم ہوسکتی ہے؟ سوال اول کا جواب نفی میں ہے کیونکہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف قسم کے ذہنی اختلاف باقی رہیں گے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کو مخاطب کر کے