انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 419

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۱۹ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے قائم کیا ہے کہ جب دو حاکم ہوں گے فساد ضرور پیدا ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ دنیا کی ترقی اور تباہی زمین و آسمان کے اتحاد پر موقوف ہے۔جب بھی فساد ہوتا ہے زمین و آسمان کے بگاڑ سے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آولم يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا آنَ السَّمَوتِ والْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا ہے کہ کیا کفار نہیں دیکھتے کہ زمین و آسمان بند تھے یعنی نہ زمین اپنے روحانی پھل اور سبزیاں اُگاتی تھی اور نہ ہی آسمان وقت پر بارش برساتا تھا زمین و آسمان بند ہو گئے تھے فَفَتَقْنَهُمَا پھر ہم نے اُن میں کشائش کے سامان پیدا کئے اور ان کو اپنے انبیاء کے ذریعے پھاڑ دیا۔پس دنیا میں ترقی اور کشائش کے سامان تبھی پیدا ہوتے ہیں جب زمین و آسمان متحد ہو جائیں اور دنیا کی تباہی اور بربادی کے سامان بھی تبھی ہوتے ہیں جب زمین و آسمان جمع ہو جائیں۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمان سے بارش برسی اور زمین سے چشمے پھوٹ پڑے اور اس طرح وہ قوم تباہ ہوگئی۔سے اگر آسمان سے بارش برستی لیکن زمین سے چشمے نہ پھوٹتے تو وہ قوم تباہ نہ ہوتی یا اگر زمین سے چشمے پھوٹے تھے تو آسمان سے بارش نہ ہوتی تو وہ قوم بچ جاتی۔مگر چونکہ زمین و آسمان متحد ہو گئے اس لئے وہ قوم تباہ ہوگئی۔اسی طرح باقی انبیاء کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے دشمنوں کی تباہی کی وجہ یہی ہوئی کہ زمین و آسمان ان کے خلاف ہو گئے اور وہ تباہ ہو گئے۔پس حقیقت میں امنِ کامل ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ زمین و آسمان میں ایک حکومت نہ ہو۔کامل امن اور کامل آزادی اسی وقت نصیب ہوگی جب زمین پر بھی خدا تعالیٰ کی بادشاہت اسی طرح قائم ہو جائے جس طرح آسمان پر ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو یہ دعا سکھائی کہ اے خدا ! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہو اس دعا میں حضرت مسیح علیہ السلام نے یہی ففتقنهُمَا کا مضمون ادا کیا ہے۔غرض امن کا ذریعہ یہی ہے کہ یا تو دو آدمی جن میں جھگڑا ہے مل بیٹھیں اور یا پھر ایک شخص دوسرے کو مار دے اسی طرح یا تو دنیا میں کلی طور پر خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو جائے تو امن ہو جائے گا اور یا پھر گلی طور پر شیطان کی حکومت قائم ہو جائے تو پھر بھی امن قائم ہو جائیگا۔جب سے یورپین لوگوں نے ہندوستان اور افریقہ وغیرہ پر قبضہ کیا ہے ان کی یہ کوشش رہی ہے کہ ان ملکوں کے