انوارالعلوم (جلد 18) — Page 407
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۰۷ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین ہے؟ ؟ صحار میں بین کرنے کا رواج موجود تھا اور ابھی تک اس کی ممانعت نہیں ہوئی تھی ) عورتوں نے زور زور سے رونا اور پیٹنا شروع کیا ان کے رونے کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا مدینہ میں ایک کہرام مچ گیا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شور سن کر صحابہ سے پوچھا کہ یہ شور کیسا حابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے جو کہا تھا کہ جعفر کے گھر میں رونے والا کوئی نہیں آپ کے اس فقرہ کو سن کر تمام مدینہ کی عورتیں جعفر کے گھر جمع ہوگئیں ہیں وہ جعفر پر رو رہی ہیں ۔ آپ نے فرمایا میرا یہ مطلب تو نہیں تھا میں رونے کو پسند نہیں کرتا جاؤ اور اُن کو منع کرو۔ لیکن اب عورتیں بھی اس جذبہ کے ماتحت رو رہی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی شہید ہو گیا ہے، اُن کے دلوں میں ندامت پیدا ہو چکی تھی کہ ہم اپنے خاوندوں اور بھائ بھائیوں پر تو رو رہی تھیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی پر رونے والا کوئی نہیں اس لئے یہ رونا محبت و عشق کا رونا تھا اور سچا جوش اس میں پایا جاتا تھا۔ اتنے میں ایک صحابی وہاں آ گئے اور کہا چپ کرو چپ کرو، روؤ نہیں کیونکہ اس طرح رونے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے ۔ عورتوں نے اُسے جواب دیا ۔ جا جا ، اپنے گھر بیٹھ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی شہید ہو جائے اور ہم نہ روئیں ۔ جب وہ عورتیں رونے سے باز نہ آئیں تو وہ صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رَسُولَ اللہ! میں نے ان کو بہت منع کیا ہے لیکن وہ رونے سے باز نہیں آتیں ۔ آپ نے فرمایا جانے دو رو رو کر خود خاموش ہو جائیں گی ۔ آپ نے اس موقع پر یہ الفاظ بیان فرمائے احتُ التَّرَابَ عَلَى وُجُوهِهِنَّ ۲۴ کہ ان کے مونہوں پر مٹی ڈالو مطلب یہ تھا کہ ان کو چھوڑ دو۔ پنجابی میں بھی کہتے ہیں کہ ” اس نوں کھیہہ کھان دے۔ مطلب یہ کہ اس کو چھوڑ دے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحابی کو کی زیادہ ذہین نہ تھے اُنہوں نے احتُ التَّرَابَ عَلَى وُجُوهِهِنَّ کے الفاظ سنے اور واپس آ کر اپنی چادر میں مٹی ڈالی اور عورتوں کے مونہوں پر ڈالنی شروع کر دی ۔ حضرت عائشہ نے دیکھ لیا اور اُس صحابی سے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ اُنہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اُحْتُ التَّرَابَ عَلَى وُجُوهِهِنَّ - حضرت عائشہ نے فرمایا تم کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ اس سے آپ کا منشاء کیا ہے؟ آپ کا منشاء یہ ہے کہ ان کو چھوڑ دو وہ خود بخود خاموش ہو جائیں گی ۔ اب دیکھو !