انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 406

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۰۶ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین وہ بھی مارے جائیں تو پھر جس پر مسلمان متفق ہوں وہ فوج کی کمان کرے۔۲۳ جس وقت آپ نے یہ ارشاد فر ما یا اُس وقت ایک یہودی بھی آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا میں آپ کو نبی تو نہیں مانتا لیکن اگر آپ سچے بھی ہوں تو ان تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بیچ کر نہیں آئے گا کیونکہ نبی کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔وہ یہودی حضرت زید کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اگر تمہارا رسول سچا ہے تو تم زندہ واپس نہیں آؤ گے۔حضرت زیڈ نے فرمایا میں زندہ آؤں گا یا نہیں آؤں گا اس کو تو اللہ ہی جانے مگر ہمارا رسول ﷺہ ضرور سچا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پورا ہوا۔پہلے حضرت زید شہید ہوئے اور ان کے بعد حضرت جعفر نے لشکر کی کمان سنبھالی وہ بھی شہید ہو گئے اور ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواح نے لشکر کی کمان سنبھالی لیکن وہ بھی مارے گئے اور قریب تھا کہ لشکر میں انتشار پیدا ہو جا تا کہ حضرت خالد بن ولیڈ نے بعض مسلمانوں کے کہنے سے جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ مسلمانوں کو فتح دی اور وہ خیریت سے لشکر کو واپس لے آئے۔جب یہ لشکر مدینہ پہنچا تو جو مسلمان جنگ میں شہید ہوئے تھے ان کے رشتہ داروں نے ان پر واویلا کرنا شروع کیا۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ جعفر کے گھر میں سے چیخنے چلانے کی آوازیں نہیں آتی تھیں شاید اس وجہ سے کہ حضرت جعفر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی تھے اس لئے ان کے گھر والے شریعت کے زیادہ واقف تھے اور انہوں نے صبر کا اعلیٰ نمونہ دکھایا یا اس وجہ سے کہ بوجہ مہاجر ہونے کے گھر میں صرف اُن کی بیوی ہی تھیں اور کوئی ہمدرد نہ تھا۔اُس وقت سارے مدینے میں ایک کہرام مچا ہوا تھا اور عور تیں اپنے اپنے رشتہ داروں پر رو رہی تھیں لیکن جعفر کا گھر سنسان پڑا تھا۔غرض اس فرق کو دیکھ کر آپ کے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ جعفر پر رونے والا کوئی نہیں۔آپ کے منہ سے اس فقرہ کا نکلنا تھا کہ صحابہ کے سرندامت کے مارے جھک گئے اور اُن میں سے کئی مجلس سے اٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو گئے اور اپنی بہنوں اور بیویوں سے کہا تم یہاں کیا کر رہی ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سب لوگ اپنے رشتہ داروں پر رور ہے ہیں لیکن جعفر کے گھر میں رونے والا کوئی نہیں۔یہ بات سنتے ہی مدینے کی تمام عورتیں حضرت جعفر کے گھر جمع ہو گئیں ( اُس وقت عربوں