انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 19

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۹ اسلام کا اقتصادی نظام اسلام کی ابتدائی تعلیم میں تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی سورۃ غرباء کو اُبھارنے کی تلقین اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ والى سورة جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ ساری سورۃ ایک ہی دن میں نازل ہوگئی تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسی سورۃ کا ابتدائی ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور پھر رفتہ رفتہ ساری سورۃ نازل ہوگئی۔اس سورۃ کے نزول کے بعد قریب ترین عرصہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں اُن میں سے چارسورتیں ایسی ہیں جن کو سرولیم میور جو یو۔پی کے لیفٹینٹ گورنر رہ چکے ہیں اور یورپین مصنفین میں خاص عظمت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔سولیلو کی SOLILOQUY) یعنی محادثہ بالنفس کی سورتیں قرار دیتے ہیں۔اُن کا خیال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس میں دعویٰ سے پہلے جو خیالات پیدا ہوا کرتے تھے ان چار سورتوں میں انہی خیالات کا ذکر آتا ہے۔سرولیم میور کے نزدیک یہ چار سورتیں آخری پارہ کی سورۃ البلد۔سورۃ الشمس۔سورۃ اللیل اور سورۃ الضحی ہیں۔مفسرین کے نزدیک تو یہ سورتیں سورۃ العلق کے بعد نازل ہوئی ہیں اور تاریخی طور پر بھی یہی بات درست ہے لیکن میور کا خیال ہے کہ یہ سورتیں اقرا باسم ربك الذي خلق والى سورة سے بھی پہلے کی ہیں۔اُن کی بنائے استدلال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جب کہا اِقْرَاْ یعنی پڑھ۔تو بہر حال اس سے پہلے کوئی چیز موجود ہونی چاہئے تھی جس کو پڑھنے کا حکم دیا جاتا۔اسلامی تاریخ کے لحاظ سے بھی یہ نہایت ابتدائی سورتیں ہیں اور میور کے خیال کے لحاظ سے تو یہ اتنی ابتدائی سورتیں ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے دعوئی سے بھی پہلے کی ہیں۔ان چار سورتوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں سے تین میں غرباء کی خبر گیری کو نجات اور ترقی قومی کیلئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔لوگوں کو غرباء کی خبر گیری اور اُن کی خدمات پر اُبھارا گیا ہے اور امراء کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔چنانچہ سورۃ البلد میں آتا ہے۔يَقُولُ أَهْلَعْتُ مَا لا تُبَدًا - آ يَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَةً اَحَدُ - آلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ - وَهَدَيْنَهُ التَّجْدَينِ - فَلَا اقتحم العقبة - وما ادريك ما العقبة - فَلتْ رَقَبَةٍ - أو إطعم في يومٍ ذي مَسْغَبَةٍ - يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ -