انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 382

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۸۲ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے رُسوائی کی حالت میں ہوں۔عقل مندوں کے نزدیک پاخانے میں سو سال کی زندگی گزار نے سے چھ ماہ کی آزاد زندگی زیادہ بہتر ہے اور پاخانہ میں زندگی بسر کرنے کی بجائے وہ موت کو ترجیح دیتے ہیں۔جو شخص ہر وقت گندگی میں رہے گا اُس کا دماغ بد بو کی وجہ سے سخت پریشان رہے گا اور اس زندگی کا مزا کیا آئے گا۔پس ہماری خوشی اور راحت اسی بات میں ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ہو جائیں اور اسی کے لئے زندگی بسر کریں بیشک تمہارا یہ کام بھی ہے کہ تم گلیوں اور شہروں کو صاف کرو، لوگوں کے آرام کا باعث بنولیکن اس ظاہری گند سے روحانی گند زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اہلِ مغرب نے ظاہری صفائی پر بہت زور دیا اور جسمانی صفائی کے بہت سے انتظام کئے ہیں لیکن روحانی صفائی کا علاج ان کے پاس نہیں ، جسمانی گند سے جسم مرتا ہے لیکن روحانی گند سے روح مرجاتی ہے اور یہ چیز قابل برداشت نہیں کیونکہ روح کے مرنے سے انسان دائمی طور پر جہنمی بن جاتا ہے۔جسمانی گند کا اثر روحانی گند کے اثر کے مقابل میں بہت محدود ہوتا ہے پس تم بے شک ظاہری صفائی کا بھی خیال رکھو لیکن اس سے زیادہ فکر تمہیں روحانی گند کو دور کرنے کے لئے ہونی چاہئے۔اس روحانی گند کو دور کرنے کی کوشش کرو اور قرباقی کے معیار کو بلند کرو۔تم غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کی حکومت تمام دنیا میں قائم کرنے کے لئے تمہیں کس قدر قربانیاں کرنی چاہئیں۔جب دنیا کے لوگ اور دنیا کے سپاہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں پیش کر دیتے ہیں تو خدا تعالیٰ کا روحانی سپاہی تو ان سب سے بڑھ کر ہونا چاہئے اور اس کی قربانی دنیا داروں کی قربانیوں سے بہت بڑھ کر ہونی چاہئے اس لئے وہ لوگ جو تھوڑی سی قربانی کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ دے دیا اور وہ اپنے آپ کو تھکا ہوا پاتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے بہادر سپاہی کس طرح کہلا سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا بہادر سپاہی وہ ہے جو اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آواز پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو اور ہرفت پابہ رکاب رہتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سچے مومن کی مثال کچے دوست سے دیتے تھے آپ سنایا کرتے تھے کہ کوئی امیر آدمی تھا اس کے لڑکے کے کچھ اوباش لڑکے دوست تھے باپ نے اُسے سمجھایا کہ یہ لوگ تیرے بچے دوست نہیں ہیں محض لالچ وغیرہ کی خاطر تمہارے پاس