انوارالعلوم (جلد 18) — Page 381
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۸۱ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے کے احکام پر عمل پیرا ہو جاؤ۔باتوں کا زمانہ گزر گیا اور اب باتوں کا زمانہ نہیں بلکہ عمل کرنے کا زمانہ ہے اللہ تعالیٰ اب دیکھنا چاہتا ہے کہ ان بڑے بڑے دعووں کے بعد تم کتنے قطرے خونِ دل کے اُس کے حضور پیش کرتے ہو۔دنیا کے بادشاہ موتیوں اور ہیروں کی نذریں قبول کرتے ہیں مگر زمین و آسمان کا مالک اور سب بادشاہوں کا بادشاہ یہ دیکھتا ہے کہ کتنے قطرے خونِ دل کے کوئی شخص ہمارے حضور پیش کرتا ہے۔ہمارے خدا کے دربار میں ہیروں اور موتیوں کی بجائے خونِ دل کے قطرے قبول کئے جاتے ہیں۔دنیا کی قو میں تو اسی زندگی کو ہی اپنا مقصود قرار دیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بندوں کا اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ ان کی حقیقی اور نہ مٹنے والی زندگی اگلے جہان سے شروع ہوگی اس لئے وہ موت سے نہیں ڈرتے دنیا کے لوگ مرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی ختم ہوئی تو ہم ختم ہوئے لیکن مؤمنوں کی مثال روایتی دیو کی طرح ہوتی ہے کہ اس کے خون کے جتنے قطرے گرتے ہیں ان سے اتنے ہی آدمی پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔یہی حال خدائی جماعتوں کا ہوتا ہے وہ جتنی جتنی جانی قربانیاں دیتی ہیں اُتنی ہی وہ ترقی کرتی ہیں۔جس طرح سُوکھی شاخیں اور سو کھے پتے تنور میں جھونکنے سے آگ تیز ہوتی ہے اسی طرح جوں جوں مرنیوالے مرتے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو اور زیادہ ترقی دیتا ہے اور مرنے والوں کے ناموں کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیتا ہے۔جب مرنا ہر ایک نے ہے اور کوئی شخص موت سے بچ نہیں سکتا تو پھر انسان کیوں نہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہی مرے۔فرض کرو ایک شخص نے ہیں سال کی عمر میں ملازمت شروع کی اور ساٹھ سال کی عمر تک وہ ملازمت کرتا رہا اور ہر ماہ اسے پانچ سو روپیہ تنخواہ ملتی تھی تو کیا اس شخص کی چالیس سال کی ملازمت ایسے شخص کے ایک دن سے بھی کوئی نسبت رکھتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید کیا گیا۔مرنا تو ہر ایک نے ہے ، چھوٹے ، بڑے ، نوجوان اور بوڑھے سب اجل کا پیالہ پینے والے ہیں۔کوئی بچپن میں ہی مر جاتا ہے، کوئی جوانی میں مرجاتا ہے، کوئی بڑھاپے میں مرجاتا ہے، کون زندگی کی گارنٹی دے سکتا ہے؟ پھر ایسی زندگی کو سنبھال کر کرنا ہی کیا ہے کس دن کے لئے یہ زندگی بچانے کی کوشش کریں اور ایسی زندگی کا کیا فائدہ جبکہ اسلام اور مسلمان ذلّت اور