انوارالعلوم (جلد 18) — Page 380
انوارالعلوم جلد ۱۸ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے ذات میں تو کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ ایسی تبدیلیوں سے پاک ہے اور وہ الآنَ كَمَا كَانَ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اندر تبدیلی کر لی۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قطع کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو جذب کرنے کی بجائے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی ان سے منہ پھیر لیا کہ جاؤ دنیوی سامانوں پر بھروسہ کر کے دیکھ لو ورنہ اللہ تعالیٰ آج بھی اُسی طرح اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے جس طرح وہ پہلے سنتا تھا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے عمل سے اُسی محبت کا ثبوت دیں جس کا ثبوت ان کے آباء واجداد نے دیا اور اُسی طریقہ کار کولازم پکڑ ہیں جس پر چل کر ان کے آباء واجداد نے کامیابی حاصل کی۔اللہ تعالی سب سے زیادہ وفادار ہے جو شخص اس سے وفاداری کرتا ہے اللہ تعالیٰ کبھی اس سے بے وفائی نہیں کرتا۔پس اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بننا چاہتے ہو تو اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو تم لوگ ایک ہاتھ پر جمع ہوئے ہو اس لئے نہیں کہ مل کر دعوتیں اڑاؤ اور عیش وعشرت کے دن بسر کر و بلکہ تم لوگ اس لئے آگے آئے ہو کہ ہم اسلام کے لئے قربانیاں کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد قرار دیں گے تم اس سلسلہ میں اس لئے نہیں داخل ہوئے کہ مائدے پر بیٹھ کر ، لقے اُڑاؤ بلکہ تم اس لئے اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہو کہ ہم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر قربانیں کریں گے اور اسلام کی حکومت کو دنیا بھر میں از سر نو قائم کریں گے۔پس اپنے اس عہد کو ہمیشہ مد نظر رکھو اگر تم اپنے عہد کو پورا کرتے جاؤ تو دنیا کی کوئی طاقت بلکہ دنیا کی تمام طاقتیں مل کر بھی تمہارے رستے میں روک نہیں بن سکتیں کیونکہ جب تم اللہ تعالیٰ کے ہو جاؤ گے تو پھر اللہ تعالیٰ خود تمہارے لئے کامیابی کے سامان پیدا کرے گا اور تمہارے لئے کامیابی کے رستے کھول دے گا۔آخر کیا وجہ ہے کہ تمہاری باتوں میں اثر نہیں۔ایسی چمڑے کی زبان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی اور ویسی چمڑے کی زبانیں دوسرے لوگوں کی تھیں لیکن جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان بولتی تھی تو وہ گوشت اور چمڑے کی زبان نہ ہوتی تھی بلکہ وہ خدا تعالی کی زبان ہوتی تھی اس لئے اس زبان کی باتیں پوری ہو کر رہتی تھیں اور دنیا کی طاقتیں ان کو پورا ہونے سے روک نہ سکیں۔وہی طاقت اور قوت رکھنے والا خدا آج موجود ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تم اپنے اندرا خلاص اور تقویٰ پیدا کرو اور نیک نیتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ