انوارالعلوم (جلد 18) — Page 16
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۶ اسلام کا اقتصادی نظام ہے۔اے بنی نوع انسان یہ چیزیں تم سب کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور ان میں سے ہر چیز کے تم سب کے سب بحیثیت انسان ما لک ہو۔پھر اموال کے متعلق یہ قاعدہ بیان فرماتا ہے کہ مال کے متعلق اسلام کا فیصلہ أتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي الكُمْ ك اے لوگو ! جب تمہارے پاس غلام ہوں یعنی جنگی قیدی تمہارے قبضہ میں آئیں مگر حالت یہ ہو کہ نہ اُن کی گورنمنٹ اُنہیں رہا کرانے کا کوئی احساس رکھتی ہو اور نہ اُن کے رشتہ دار ان کی آزادی کیلئے کوئی کوشش کرتے ہوں اور دوسری طرف خود اُن کی مالی حالت ایسی نہ ہو کہ وہ خود فدیہ دے کر رہا ہو سکیں تو ایسی صورت میں ہم یہ حکم دیتے ہیں کہ اے جنگی قیدیوں کے نگرانو ! اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تم کو دیا ہے اُس میں سے اس غلام کی مدد کرو۔یعنی اسے اپنے پاس سے کچھ سرمایہ دے دو کہ اس ذریعہ سے وہ روپیہ کما کر اپنا فدیہ ادا کر سکے اور آزاد ہو جائے۔گویا اگر وہ خود رہا ہونے کا اپنے پاس کوئی سامان نہیں رکھتا تو تم اپنے اموال میں سے کچھ مال اسے دے دو کیونکہ مال خدا کا ہے اور خدا کے مال میں سب لوگوں کا حق شامل ہے اس لئے اگر آزادی کے سامان اس کے پاس مفقود ہیں تو تم خودا سے خدا کے اموال میں سے کچھ مال دے دو۔اسی طرح اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان حاکموں اور بادشاہوں سے بھی کہا ہے کہ اے مسلمان حاکمو اور بادشا ہو! اللہ تعالیٰ کے اموال میں صرف تمہارا حق ہی نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے حقوق شامل ہیں اس لئے اگر جنگی قیدی تمہارے قبضہ میں آتے ہیں اور اس کے بعد اُن کی قوم اُن سے غداری کرتی ہے، اُن کے رشتہ دار اُن سے غداری کرتے ہیں اور وہ اُنہیں چھڑانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے یا فرض کرو کوئی جنگی قیدی مالدار ہے اور اُس کے رشتہ دار چاہتے ہیں کہ قید ہی رہے تا کہ اُس کی جائدا پر قابض ہو جائیں تو ایسی صورت میں ہم تمہیں یہ ہدایت دیتے ہیں کہ اگر قوم نے اُن سے غداری کی ہے یا اُن کے رشتہ داران سے غداری کر رہے ہیں تو تم اُن سے غداری مت کرو بلکہ خود اپنے مال کا ایک حصہ اُن کی آزادی کے لئے خرچ کرو کیونکہ جو مال تمہارے قبضہ میں آیا ہے وہ تمہارا مال نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور جس طرح تم اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اُسی طرح غلام بھی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ان حوالوں سے معلوم