انوارالعلوم (جلد 18) — Page 364
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۶۴ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ دوسروں پر کوئی اثر نہیں کر سکتی کیونکہ ہم اس کو قربانی کہہ ہی نہیں سکتے سوائے چندا فراد کے جنہوں نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے لیکن جب تک جماعت بحیثیت جماعت قربانی کانمونہ پیش نہیں کرتی وہ دشمن کو مرعوب نہیں کر سکتی۔بیشک آفتاب آفتاب ہے لیکن اگر لا کھ دولاکھ بتیاں بھی کسی میدان میں رکھ دی جائیں تو وہ بھی اس کو جگمگا دیتی ہیں۔ہماری جماعت اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ہے اگر یہ لاکھوں شمعیں جل پڑیں تو وہ ایک بہت بڑے ملک کو جس میں۰ ۵ یا ۶۰ لاکھ انسان رہتے ہوں بقعہ نور بنا سکتی ہیں لیکن ضرورت ہے تقویٰ کی اور ایمان کی۔پس تم اپنی جماعتی قربانی کے ذریعہ سے سورج بننے کی کوشش کرو تم برسات کا پتنگا نہ بنو جو پیدا ہوتا اور مر جاتا ہے۔میں نے جماعت کو ان باتوں کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے لیکن اس کی جمود کی حالت زائل ہی نہیں ہوتی۔میں تم سے پوچھتا ہوں کیا ہمارے دل پتھر ہو گئے ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں رہے؟ کیا ہمارے دلوں میں درد نہیں رہا ؟ کیا ہمارے دلوں میں ٹیں نہیں اُٹھتی ؟ ہم کیوں ان واقعات کو پڑھ کر پاگل نہیں ہو جاتے اور اگر ان واقعات کو پڑھنے کے بعد بھی ہمارے دلوں میں کوئی غیرت پیدا نہیں ہوتی تو سوائے اس کے اور کیا سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم بے ایمان ہو گئے ہیں ، ہم بے غیرت ہو گئے ہیں اور ہمارے دل یخ ہو گئے ہیں کہ ان پر کوئی چیز اثر ہی نہیں کرتی۔اب تو ایسا زمانہ آچکا ہے کہ ہمارے لوگوں کو چاہئے وہ آدمی نظر نہ آئیں بلکہ موتیں نظر آئیں کیونکہ جس کو دنیا موت سمجھتی ہے اُس کا رستہ چھوڑ دیتی ہے اور اُس کا مقابلہ کرنے سے گھبراتی ہے۔بدر کی جنگ میں کفار نے ایک شخص کو صحابہ کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لئے بھیجا۔اس نے واپس جا کر کہا، ہیں تو وہ تین سو کے قریب لیکن تم یہ سمجھ لو کہ گھوڑوں پر آدمی سوار نہیں بلکہ موتیں سوار ہیں لیے اگر وہی عزم اور وہی ارادہ تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو کیا امریکہ اور کیا انگلستان اور کیا روس اور کیا جرمنی سب کے سب مل کر بھی تمہیں مار نہیں سکتے اور دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مٹا نہیں سکتی کیونکہ جو شخص مجسم موت بن جائے اُس پر موت طاری نہیں ہوسکتی۔الفضل قادیان ۱۷ جولائی ۱۹۴۶ ء ) سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۶ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ