انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 363

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۶۳ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ جماعت کی پہلی پانچ ہزاری فوج نے چار سو مربع زمین خریدی ہے اور اب اس سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی سالانہ آمد ہو جاتی ہے اور امید ہے کہ یہ آمد دو اڑھائی لاکھ تک پہنچ جائے گی اِنْشَاءَ اللهُ اور اس کی وجہ سے جب پہلے دفتر کے مجاہدین کے چندہ دینے کی مدت ختم بھی ہو جائے گی تب بھی کسی ملک میں ان کے ریز روفنڈ سے تبلیغ ہوتی رہے گی اور ان کے لئے قیامت تک کے لئے ثواب کی صورت ہو جائے گی اور جب تک ہمارا نظام قائم رہے گا اُس وقت تک وہ ثواب کے مستحق رہیں گے انشاء اللہ۔ایک مشن کے ذریعہ اگر لاکھوں آدمی اسلام قبول کرتے ہیں تو ان لاکھوں آدمیوں کے مسلمان بنانے میں ان کا بھی حصہ ہوگا اور خواہ ان پر پانچ پشتیں گزر جائیں، خواہ دس پشتیں گزر جائیں، خواہ میں پشتیں گزر جائیں ، اُن کو اس کارخیر کا ثواب ملتا رہے گا۔کیا یہ چھوٹی بات ہے اور کیا اسے کوئی مؤمن معمولی بات سمجھ سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ انگلستان یا امریکہ یا فرانس یا دوسرے ممالک میں لاکھوں انسان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بُرا کہنے والے تھے ، آپ کے نام لیوا بن جائیں ، کیا یہ معمولی بات ہے؟ مگر مجھے افسوس ہے کہ نو جوانوں نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔نہ ہی قادیان کے نوجوانوں نے اس کی اہمیت کو سمجھا ہے اور نہ ہی باہر والوں نے اپنے فرض کو کما حقہ ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے لئے کثرت سے اہم مقامات پر نئے تبلیغی رستے کھل رہے ہیں اور وہاں سے پیاسی روحیں پکار رہی ہیں کہ ہماری سیرابی کا کوئی انتظام کیا جائے لیکن ہمارے پاس نہ اتنی تعداد میں آدمی ہیں کہ ہم ہر آواز پر ایک وفد بھیج دیں اور نہ ہی وفود کے بھیجنے کے لئے اخراجات ہیں۔ایسے حالات میں ایک مؤمن کا خون کھولنے لگتا ہے ، خصوصاً سپین اور صقلیہ کے واقعات کو پڑھ کر تو اس کا خون گرمی کی حد سے نکل کر اُبلنے کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔جہاں ہمارے آباء واجداد نے سینکڑوں سالوں تک حکومتیں کیں اور وہ ان ممالک کے بادشاہ رہے وہاں مسلمانوں سے یہ سلوک کیا گیا کہ ان کو جبراً عیسائی بنالیا گیا اور آج وہاں اسلام کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔پھر یہ علاقے اس لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتے ہیں کہ وہاں سے تمام یورپین ملکوں میں تبلیغ کے رستے کھلتے ہیں۔پس اس فریضہ کو سرانجام دینے کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی ، ضرورت ہے متواتر قربانی کی ضرورت ہے بلند عزائم کی ، تمہاری موجودہ قربانی