انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 358

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۳۵۸ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ کے غلام ہیں۔یہ واقعات ایسے اہم ہیں جن کو کسی وقت بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔آٹھ سو سال کی حکومت کوئی معمولی بات نہیں لیکن آج اس ملک کی یہ حالت ہے کہ اس میں کسی مسلمان کی ہوا تک سونگھنے کو نہیں ملتی۔اُس زمانہ میں جس وقت مسلمان سپین پر حکومت کرتے تھے یورپ میں ایک دوسرا مقام بھی تھا جو سپین سے اتر کر دوسرے نمبر پر تھا۔مسلمانوں میں عام طور پر ہسپانیہ مشہور ہے اور عام لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اندلس کی یہ بات ہے اور وہ بات ہے لیکن اس حکومت کو عوام الناس نہیں جانتے۔یہ صقلیہ کی حکومت تھی جو سپین سے دوسرے نمبر پر تھی اور بڑی شان و شوکت سے اس پر اسلام کا جھنڈا لہراتا تھا اور یورپ کی بڑی بڑی حکومتیں اس سے خائف اور لرزاں تھیں۔صقلیہ وہ علاقہ ہے جسے آجکل سسلی کہتے ہیں۔یہ ایک جزیرہ ہے جو اٹلی کے نچلے حصہ میں ہے۔پرانے زمانہ میں یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں تھا اور وہ بحیرہ روم پر پورے طور پر قابض تھے اور کسی حکومت کی طاقت نہ تھی کہ ان کی اجازت کے بغیر تجارتی جہاز اس میں سے گزار سکے مسلمانوں کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں یہاں تھیں۔صقلیہ پر مسلمانوں کا حملہ ۶۴۵ ء یا ۶۵۰ء میں یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد ہی ہو گیا تھا۔بنوامیہ نے جہاں سپین کی طرف رُخ کیا وہاں انہوں نے صقلیہ کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی لیکن صرف کناروں کا علاقہ فتح کر کے چھاؤنیاں قائم کیں اور باقی اسی طرح پڑا رہا۔اس کے بعد سپین والوں اور افریقہ کی حکومت اسلامی نے اپنے عسا کر بھیج کر باقی علاقہ کو فتح کیا۔یہ علاقہ قریباً تین سو سال تک مسلمانوں کے ماتحت رہا۔یہ علاقہ مسلمانوں نے بہت مشکل سے فتح کیا، ایک لمبے عرصہ تک لڑائی جاری رہی اور انداز ۱۳۸۱ سال میں جا کر یہ سارا علاقہ اسلامی حکومت کا حصہ بنا۔اس علاقہ کے لوگ بہت جفاکش، محنتی اور جنگجو تھے اس لئے یورپ کی بڑی بڑی حکومتیں بھی اسے فتح نہیں کر سکتی تھیں مگر مسلمانوں نے ایک لمبی جنگ کے بعد اسے سر کیا اور اڑھائی تین سو سال تک مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔مسلمانوں نے اسے تمام علوم وفنون کا مرکز بنایا۔دُور دُور کے ملکوں سے طالب علم یہاں تحصیل علم کی خاطر آتے تھے اور تمام قسم کے علوم کی یو نیورسٹیاں یہاں پائی جاتی تھیں اور مسلمان سب سے معز زلوگ اس علاقہ میں سمجھے جاتے تھے