انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 357

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۵۷ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ وطنوں کو چلے جائیں۔ان کا یہ جواب سن کر اُس جرنیل نے کہا بہت اچھا اگر آپ کو اپنی زندگیاں پیاری ہیں تو آپ ہتھیار رکھ دیں میں تو اس قسم کی زندگی سے مرنا بہتر سمجھتا ہوں۔چنانچہ وہ اپنی تلوار لے کر باہر نکلا اور اکیلا ہی دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہوا مارا گیا۔باقی لوگوں نے ہتھیار رکھ دیئے۔غرناطہ کا بادشاہ اپنے شہر سے کچھ دور نکل کر ایک ٹیلے پر چڑھ گیا جہاں سے سب شہر نظر آتا تھا وہاں کھڑا ہو کر اس نے شہر پر نظر ڈالی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اُس کی بیوی بھی اُس کے ساتھ تھی ، معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی بیوی میں کچھ اسلامی روح پائی جاتی تھی ، اس نے بادشاہ سے کہا مردوں کا کام تو تو نے کیا نہیں، بجائے اس کے کہ تم لڑتے ہوئے اپنی جان دے دیتے تم نے ذلت کی زندگی پسند کی اب روتے کیوں ہو؟ رونا تو ہم عورتوں کا کام تھا جب ہم نہیں روتیں تو تم کیوں روتے ہو؟ بہر حال جہازوں میں کتب خانے اور مال و اسباب سب کچھ لا دکر وہ لوگ واپس اپنے وطنوں کو چلے۔ابھی کچھ دُور ہی گئے تھے کہ عیسائیوں نے جہاز غرق کر دئیے اور صرف چند مسلمان کشتیوں کے ذریعہ واپس اپنے وطن میں پہنچے باقی سب غرق ہو گئے۔اس ملک میں آج تک مسلمانوں کے بنائے ہوئے عالیشان محلات موجود ہیں۔غرناطہ اور قرطبہ میں اِس اِس قسم کے محلات تھے کہ تاج محل اُن کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا۔انسان جب ان کے کھنڈرات کی تصویروں کو بھی دیکھتا ہے تو عش عش کر اٹھتا ہے۔غرناطہ میں ہزاروں ہزار باغات تھے۔مسلمانوں کے وقت مُملک میں جگہ جگہ لائبریریاں تھیں۔بعض کتب میں لکھا ہے کہ چھ سات سو کے قریب وہاں لائبریریاں تھیں اور بعض لائبریریوں میں لاکھ لاکھ ، ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ کتا بیں تھیں۔سارا یورپ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتا تھا۔جس طرح آج لوگ برلن اور انگلینڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں یہی حال اُس وقت قرطبہ اور غرناطہ کا تھا اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں اُٹھارہویں صدی تک وہاں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔جس ملک میں مسلمانوں نے اس شان سے حکومت کی آج وہاں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں ملتا۔کوئی غیر ملک سے وہاں تعلیم کے سلسلہ میں یا اور کسی کام کے لئے گیا ہو تو اور بات ہے لیکن اس ملک کا کوئی باشندہ مسلمان نظر نہیں آئے گا۔وہ لوگ جنہوں نے سینکڑوں سال تک سپین پر حکومت کی وہ آج سپین کے زیر نگیں ہیں اور وہ لوگ جو سپین کے بادشاہ تھے آج سپین