انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 356

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۵۶ سیپلین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ کرتے ہیں اور دوسری پر حملہ کر دیتے ہیں اور اُس طرح آہستہ آہستہ انہوں نے ہماری ساری طاقت کو ختم کر دیا ہے کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ؟ ایک یہ جگہ رہ گئی ہے جہاں اسلام کا جھنڈا لہراتا ہے کیا اسے بھی تم دشمن کے حوالہ کرنا چاہتے ہو؟ کیا تمہیں اپنے آباء واجداد کی شان بھول گئی ہے جب کہ پوپ تک ان سے ادب و احترام سے پیش آتے تھے۔وہ لوگ نہایت عزت کی زندگیاں بسر کرتے ہوئے ہم سے رُخصت ہوئے اور یہ امانت ہمارے سپر د کر گئے۔اگر آپ لوگ آج ہتھیار ڈال دیں گے تو اسلام کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں سے سرنگوں کرنے والے ہوں گے۔جب اُس نے بات ختم کی تو سب نے کہا پھر کوئی علاج بتاؤ کہ اب کیا کیا جائے ؟ اُس نے کہا علاج یہی ہے کہ جوانمردی اور بہادری سے مرتے ہوئے جان دے دو لیکن ہتھیار نہ رکھو۔آخر تم میں سے کون ہے جس نے مرنا نہیں۔اگر ہر ایک نے مرنا ہے تو پھر چار پائی پر ذلت کی موت سے یہ بہادری کی موت ہزار درجے بہتر ہے اور اگر تم اپنی جانوں کو عزیز سمجھے اور ان کی قربانی کے لئے تیار نہ ہوئے تو آئندہ نسلیں تم پر لعنت بھیجیں گی کہ ہمارے آباء واجداد نے اسلام کا جھنڈا اپنے ہاتھوں سے سرنگوں کر دیا تھا۔اُس کی اس تقریر نے بہت سے رؤساء کے دلوں میں جوش پیدا کر دیا اور بادشاہ اور رؤسا نے کہا یہ ٹھیک کہتا ہے ہمیں ایسا ہی کرنا چاہئے اور اپنی روایات کو برقرار رکھنا چاہئے لیکن کچھ بُزدل رؤساء نے کہا یہ تو پاگلوں والی بات ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اگر ہم مقابلہ کریں گے تو ہماری ہلاکت یقینی ہے تو پھر ہمارا لڑ نا کوئی معنی نہیں رکھتا ہمیں ان کی شرائط کو قبول کر لینا چاہئے۔جب وہ ہمیں اپنے کتب خانے ، اپنے اسباب اور اپنے اموال لے جانے کی اجازت دیتے ہیں اور ہمارے رستے کھلے چھوڑتے ہیں تو ہمیں ان شرائط کے قبول کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔اس پر پھر وہ جرنیل کھڑا ہوا اور اُس نے کہا کیا عیسائیوں نے پہلی دفعہ یہ معاہدہ کیا ہے کہ ہمیں ان کے رویہ کا علم نہیں ؟ وہ سو سال سے معاہدے کرتے اور توڑتے چلے آتے ہیں اس حالت میں ہمیں ان کے اس معاہدہ پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے رستے میں روک نہیں بنیں گے۔اس کے جواب میں رؤساء نے کہا یہ ضروری نہیں کہ جو شخص دس دفعہ جھوٹ بولتا ہے ، وہ گیارہویں دفعہ بھی ضرور جھوٹ بولے، ہو سکتا ہے کہ وہ اس دفعہ ایفائے عہد کر دیں اور ہم صحیح سلامت اپنے