انوارالعلوم (جلد 18) — Page 331
انوار العلوم جلد ۱۸ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں ( فرموده ۲۹ را پریل ۱۹۴۶ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) پرسوں ایک دوست مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو انہوں نے ذکر کیا کہ وہ اپنے لڑکے کو قرآن شریف حفظ کرانا چاہتے ہیں مگر کہا کہ جو دوست بھی ملتا ہے یہی کہتا ہے کہ ایسا نہ کیجئے بچے پر بوجھ پڑ جائے گا اور وہ بیمار ہو جائے گا۔میں نے جواب دیا کہ شیطان تو ہمیشہ ہی نیک کام میں دخل دیا کرتا ہے آپ اسے بھی شیطانی وسوسہ سمجھ لیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں ہر جماعت میں کچھ لوگ شیطان کے قائمقام ہوتے ہیں وہاں مؤمن بھی بعض دفعہ اپنی کمزوری سے ایسے لوگوں کو دلیر کر دیتے ہیں۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی عبداللہ بن ابی بن سلول جیسے لوگ ہوتے تھے اور وہ لوگ ایسی باتیں کرتے تھے جن کے نتیجہ میں دین کی تنظیم اور اس کی ترقی کے سامان پیدا نہ ہوں یا پیدا ہوں تو کوئی روک واقع ہو جائے اسی طرح آجکل بھی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں۔پھر بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جو دین کی ترقی کو دیکھ ہی نہیں سکتیں ، بعض طبائع حسد رکھتی ہیں اور جب دیکھتی ہیں کہ کوئی شخص قرآن حفظ کر رہا ہے یا دین کی طرف توجہ کر رہا ہے تو وہ ڈرتے ہیں کہ اگر اسی طرح یہ طریق جاری رہا تو لوگ ہم پر الزام لگائیں گے کہ تمہارے حالات بھی تو ایسے ہی تھے تم نے یہ کام کیوں نہ کیا۔اس وجہ سے ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے اور اس ڈر سے کہ ہم پر کوئی الزام عائد نہ کرے وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کو نیک کام کرنے سے ورغلا دیں۔جب آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی تو شیطان کو غصہ آیا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا مقرب ہو گیا اور میں نہیں ہوا اور اُس نے چاہا کہ کسی طرح اس سے بھی نافرمانی کرائیں۔