انوارالعلوم (جلد 18) — Page 326
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۲۶ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کی تقریب کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ ہم جماعت سے مالی قربانی کا مطالبہ کریں اور اس غرض کے لئے ایک خاص فنڈ کھول دیں لیکن دو تین سال تک جب ہمیں زمین مہیا ہو جائے گی عمارتوں کا میٹیریل(MATERIAL) ملنا شروع ہو جائے گا اور اس میٹیریل سے عمارتیں بنی شروع ہو جائیں گی ہمیں اس کے لئے لاکھوں روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ان عمارتوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوگی جو اس غرض کے لئے بنائی جائیں گی ، ان زمینوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوگی جن پر یہ عمارتیں تعمیر کی جائیں گی ان سامانوں کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوگی جو عمارتوں کی تعمیر کیلئے درکار ہوگا، ان کارکنوں کے گزارہ کیلئے روپیہ کی ضرورت ہوگی جو اس انسٹیٹیوٹ میں کام کریں گے اور ان نتائج کو عملی جامہ پہنانے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہوگی جو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پیدا کرے گی۔پس گو اب بھی میں جماعت کو کسی چندہ کے متعلق تحریک نہیں کرتا مگر میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسے یہ امر اپنے مد نظر رکھنا چاہئے۔اس وقت صرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنے دوستوں میں تحریک کر کے اس غرض کے لئے پچاس ہزار روپیہ جمع کیا ہے اور اڑھائی لاکھ روپیہ سلسلہ کی طرف سے خرچ ہوا ہے۔میرا بھی وعدہ ہے کہ میں اپنی طرف سے اور اپنے بعض دوستوں کی طرف سے ایک لاکھ روپیہ جمع کر دوں گا اور چونکہ اب اخراجات روز بروز زیادہ ہونگے اور دو تین سال میں ہی وہ وقت آنے والا ہے جب جماعت کے سامنے اس کے متعلق تحریک کی جائے گی اس لئے میں جماعت کو ابھی سے اس طرف توجہ دلا دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ جب جماعت کے سامنے اس کے متعلق تحریک کی جائے گی تو ہماری جماعت کے تمام افراد اپنے پورے اخلاص اور جوش کے ساتھ جس حد تک ان کے ذرائع آمد ان کا ساتھ دیں گے اس تحریک میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں گے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ کوئی دنیوی انسٹی ٹیوٹ نہیں بلکہ یہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جاری کی گئی ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے ابتداء میں ہی ظاہر فرما دیا تھا۔آپ نے فرمایا تھا کہ ایک خدا تعالیٰ کا قول ہوتا ہے اور ایک فعل۔خدا تعالیٰ کا قول وہ الہامی کتابیں ہیں جو مختلف ممالک میں مختلف اوقات پر لوگوں کی ہدایت اور ان کی راہ نمائی کیلئے نازل ہوئیں