انوارالعلوم (جلد 18) — Page 327
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۲۷ فضل عمر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کی تقریب اور خدا تعالیٰ کا فعل وہ قانونِ قدرت ہے جسے دوسرے لفظوں میں سائنس کہتے ہیں۔آپ نے فرما یا دنیا میں کوئی معقول انسان ایسا نہیں ہو سکتا جو بات کچھ اور کرے اور کام کچھ اور کرے۔ہر معقول انسان کے قول اور فعل میں تطابق اور یک جہتی پائی جاتی ہے۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہے کچھ اور کرے کچھ۔الہام کچھ اور نازل کرے اور دنیا میں قواعد ایسے جاری کرے جو الہام کے خلاف ہوں۔اگر کہیں خدا تعالیٰ کے قول اور اس کے فعل میں اختلاف نظر آتا ہو تو یہ صرف غلط نہی کا نتیجہ ہو گا۔ورنہ سچی سائنس اور سچا مذہب آپس میں کبھی ٹکر انہیں سکتے اور اگر ٹکراتے ہیں تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی یا تو مذہب کی طرف جو بات منسوب کی جاتی ہے وہ غلط ہوگی یا پھر سائنس جو کچھ کہ رہی ہوگی وہ غلط ہو گا ان دونوں میں سے کسی ایک کی غلطی نکالنے کے بغیر ہم صحیح مطلب نہیں سمجھ سکتے۔اسی لئے سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کی گئی ہے تاکہ ہم اپنی جدو جہد کے ذریعہ سائنس کو مذہب کے قریب لانے کی کوشش کریں۔جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہایت قوی دلائل دے کر اسلام کے ہر مسئلہ کو سچا ثابت کر دیا ہے اور آپ نے مذہب کی ایسی تفسیر بیان فرمائی ہے جو انسانی عقل اور ضمیر کے خلاف نہیں بلکہ ہر مجلس ہر جلسہ اور ہر میدان میں ہم اسلام کے ہر مسئلہ کی کھلے طور پر تصدیق کرنے کے لئے تیار ہیں اور دشمن کے کسی حملہ پر اس کے مقابلہ میں ہماری آنکھیں نیچی نہیں ہوتیں۔اب دوسرا حصہ باقی تھا کہ کوئی سچی سائنس سچے مذہب سے ٹکرا نہیں سکتی اور یہ کام بندوں کا ہے کہ وہ سائنس کے مسائل کو مذہب کے مطابق ثابت کریں اور دنیا سے اس نا واجب تفرقہ اور شقاق کو دور کر دیں جو مذہب اور سائنس میں پایا جاتا ہے۔میں صرف اتنا ہی کہنے کے لئے کھڑا ہوا تھا تا کہ جماعت کے احباب کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاؤں جو اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی وجہ سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور ان تمام دوستوں کا جو اس موقع پر تشریف لائے ہیں خصوصاً ڈاکٹر سر بھٹناگر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہاں تشریف لا کر ہمارے لئے خوشی کا سامان مہیا کیا۔( الفضل ۳ رمئی ۱۹۴۶ء)