انوارالعلوم (جلد 18) — Page 321
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۲۱ ہر کام کی بنیاد حق الیقین پر ہونی چاہئے کرتا بلکہ اپنے لئے کرتا ہے اس لئے اس کی جدو جہد دوسرے لوگوں کی جدو جہد کے مقابلہ میں بالکل نرالا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔غرض انسانی علم اور یقین کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں جو مختلف لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ایک متذبذب حالت ہوتی ہے انسان کام تو کرتا ہے مگر کبھی خیال کرتا ہے کہ شاید ہو جائے اور کبھی خیال کرتا ہے کہ شاید نہ ہو۔مثلاً وہ کسی سے اپنے لئے رشتہ مانگنا چاہتا ہے اُس وقت اُس کی حالت متنذ بذب ہوتی ہے کبھی خیال کرتا ہے کہ شاید وہ شخص رشتہ دے دے اور کبھی خیال کرتا ہے کہ ممکن ہے نہ دے۔آخر بہت کچھ سوچنے کے بعد وہ درخواست دے دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اگر اس نے درخواست کو رڈ کر دیا تو کسی اور جگہ کوشش کر دیکھوں گا۔بہر حال اس کی حالت میں تذبذب ہوتا ہے اور ایک خلجان سا اس کی طبیعت میں پایا جاتا ہے۔اس سے اوپر ایک اور مقام ہوتا ہے جس میں تذبذب تو نہیں ہوتا مگر یقین بھی نہیں ہوتا اس حالت کو ہم یقینی مگر قابل تذبذب حالت کہہ سکتے ہیں۔وہ ظاہر میں سمجھتا ہے کہ مجھے یقین حاصل ہے مگر دراصل اُس کا یقین کمزور ہوتا ہے اور وہ جلد ہی اپنے اصل مقام سے اِدھر اُدھر ہو جاتا ہے۔جیسے لَيَالِی عَشَرَ کی تشریح میں میں نے بتایا تھا کہ حضرت ابن عمر سے جب طلحہ بن عبد اللہ نے کہا کہ اس سے ذی الحجہ کے ایام عرفہ ونحر مراد ہیں تو انہوں نے کہا تم کو کس طرح معلوم ہوا ؟ وہ کہنے لگے مجھے یقین ہے۔اس پر انہوں نے کہا اگر یقین ہے تو میں ابھی تم کو شک میں ڈال دیتا ہوں۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ جانتے تھے اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات مردوی نہیں جو کچھ کہا جاتا ہے رواۃ کی اپنی رائے ہے اس لئے انہیں آسانی سے شبہ ڈالا جا سکتا ہے۔گویا یہ مقام ایسا ہے جس میں انسان کو شک تو نہیں ہوتا مگر شک کا امکان ہوتا ہے اور گو وہ اپنے مقصد کے لئے زیادہ جدو جہد کرتا ہے مگر ابھی اس کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔دیوانہ وار جد و جہد کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا۔اس کے بعد ایک اور حالت ہوتی ہے جس میں انسان کو یقین تو ہوتا ہے مگر غیر معمولی حالات میں وہ ہل جانے والا ہوتا ہے اور کبھی انسان کو ایسا مضبوط یقین حاصل ہوتا ہے کہ بیسیوں دلائل اس کے سامنے پیش کئے جائیں وہ گھبرا تا نہیں وہ علی وجہ البصیرت اپنے دعویٰ پر قائم ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بات اس طرح نہیں جس طرح لوگ کہتے ہیں بلکہ اس