انوارالعلوم (جلد 18) — Page 309
۳۰۹ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض انوارالعلوم جلد ۱۸ الگ بھی ہو جائیں تو باقی ہندوستان کا کیا بگڑ سکتا ہے۔اس وقت بھی ہندوستان کی آبادی روس سے قریباً دگنی ، یونائٹیڈ سٹیٹس سے قریباً اڑھائی گئی ، سابق جرمن سے قریباً چار گنی ہوگی اور مملک کی وسعت بھی کافی ہوگی۔ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ مسلم صوبے الگ ہو کر ترقی نہیں کر سکیں گے دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے الگ ہو جانے سے ہندوستان اپنی عظمت کھو بیٹھے گا۔اگر ہندوستان کی عظمت اسلامی صوبوں سے ہے تو ان کے الگ ہونے پر اسلامی صوبوں کو نقصان کیونکر پہنچے گا یہ تو وہی دلیل ہے جو روس اس وقت پولینڈ ، رومانیہ، بلغاریہ، ٹرکی اور ایران کے بعض صوبوں پر قبضہ کرنے کی تائید میں دیتا ہے۔روس اپنی تمام طاقت کے ساتھ تو جرمنی اور اٹلی کے حملہ سے جو تباہ شدہ ملک ہیں نہیں بچ سکتا نہ افغانستان اور جنوبی ایران جیسے زبر دست ملکوں کے حملوں سے بچ سکتا ہے اس کے بچنے کی صرف یہی صورت ہے کہ پولینڈ اور رومانیہ اور بلغاریہ اس کے زیر تصرف ہو جائیں یا ٹر کی کے بعض صوبے اور امیر ان کا شمالی حصہ اسے مل جائے کیا یہ دلیل ہے؟ کیا ایسی ہی دلیلوں سے ہندو مسلمانوں کے دلوں میں اعتبار پیدا کر سکتے ہیں؟ میں پھر کہتا ہوں کہ اس نازک موقع پر اخلاق پر اپنے دعوؤں کی بنیاد رکھیں بھلا اس قسم کے دعوؤں سے کہ مسلم لیگ مسلم رائے کی نمائندہ نہیں کیونکہ اس کے منتخب ممبر جو کونسلوں میں آئے اکثر بڑے زمیندار ہیں کیا بنتا ہے؟ کیا عوام الناس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بڑے زمیندار کو اپنا نمائندہ مقرر کریں؟ اس دلیل سے تو صرف یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ پنڈت نہر وصاحب کے نزدیک جنہوں نے یہ امر پیش کیا ہے مسلمان اپنا نمائندہ چننے کے اہل نہیں۔اگر ان کا یہ خیال ہے تو دیانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ یوں کہیں کہ مسلمان چونکہ اپنے نمائندے چننے کے اہل نہیں اس لئے موجودہ ملکی فیصلہ میں ان سے رائے نہیں لینی چاہئے۔اگر وہ ایسا کہیں تو خواہ یہ بات غلط ہو یا درست مگر منطقی ضرور ہو گی مگر یہ کہنا کہ مسلمانوں نے چونکہ اپنا نمائندہ چند بڑے زمینداروں کو چنا ہے اس لئے وہ لوگ موجودہ سوال کو حل کرنے کے لئے مسلمانوں کے نمائندے نہیں کہلا سکتے ایک ایسی غیر منطقی بات ہے کہ پنڈت نہرو جیسے آدمی سے اس کی امید نہیں کی جاسکتی۔اگر ان کا یہ مطلب نہیں تو انہوں نے اس امر کا ذکر اس موقع پر کیا کیوں تھا؟ در حقیقت ان کا یہ اعتراض ویسا ہی ہے جیسا کہ بعض مسلمان کہتے ہیں کہ مسٹر گاندھی عموماً مسٹر برلا