انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 305

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۰۵ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض ہماری گفت وشنید ہوئی ہے اُس نے ریاستوں کے اس رویہ پر مہر تصدیق لگا دی ہے۔غرض صرف ڈیموکریسی (DEMOCRACY) کے لفظ پر نہیں جانا چاہئے۔یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ڈیموکریسی کا مفہوم کس قوم میں کیا ہے۔اس وقت روس مغربی حکومتوں کے خلاف بار بار یہ اعلان کر رہا ہے کہ مغربی ممالک کے ری ایکشنر REACTIONARY) لوگ ہمارے خلاف یونان اور ایران اور چین کی تائید کے نام سے غلط فضاء پیدا کر رہے ہیں لیکن کیا صرف ری ایکشنری کے لفظ کے استعمال کی وجہ سے انگلستان اور امریکہ کے لوگ اپنی منصفانہ پالیسی چھوڑ دیں گے؟ اگر نہیں تو صرف ڈیموکریسی کے لفظ کے استعمال سے بھی ان کی تسلی نہیں ہو جانی چاہئے۔میں مسلمانوں کے نمائندوں کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ہندوستان ہمارا بھی اُسی طرح ہے جس طرح ہندوؤں کا۔ہمیں بعض زیادتی کرنے والوں کی وجہ سے اپنے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔اس ملک کی عظمت کے قیام میں ہمارا بہت کچھ حصہ ہے۔ہندوستان کی خدمت ہندوؤں نے تو انگریزی زمانہ میں انگریزوں کی مدد سے کی لیکن ہم نے اس ملک کی ترقی کے لئے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے۔پشاور سے لے کرمنی پور تک اور ہمالیہ سے لے کر مدراس تک اُن محبانِ وطن کی لاشیں ملتی ہیں جنہوں نے اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی عمریں خرچ کر دی تھیں۔ہر علاقہ میں اسلامی آثار پائے جاتے ہیں کیا ہم ان سب کو خیر باد کہہ دیں گے؟ کیا ان کے باوجود ہم ہندوستان کو ہندوؤں کا کہہ سکتے ہیں؟ یقیناً ہندوستان ہندوؤں سے ہمارا زیادہ ہے۔قدیم آریہ ورت کے نشانوں سے بہت زیادہ اسلامی آثار اس ملک میں ملتے ہیں۔اس ملک کے مالیہ کا نظام، اس ملک کا پنچائتی نظام، اس ملک کے ذرائع آمد و رفت سب ہی تو اسلامی حکومتوں کے آثار میں سے ہیں پھر ہم اسے غیر کیونکر کہہ سکتے ہیں۔کیا سپین میں سے نکل جانے کی وجہ سے ہم اسے بُھول گئے ہیں؟ ہم یقیناً اسے نہیں بھولے ہم یقیناً ایک دفعہ پھر سپین کو لیں گے۔اسی طرح ہم ہندوستان کو نہیں چھوڑ سکتے یہ ملک ہمارا ہندوؤں سے زیادہ ہے۔ہماری سستی اور غفلت سے عارضی طور پر یہ ملک ہمارے ہاتھ سے گیا ہے ہماری تلواریں جس مقام پر جا کر گند ہو گئیں وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ شروع ہوگا اور اسلام کے خوبصورت اصول کو پیش کر کے ہم اپنے ہندو بھائیوں کو خود اپنا جز و بنالیں گے مگر اس کے لئے