انوارالعلوم (جلد 18) — Page 304
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۰۴ پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض برطانوی امپائر سے تعاون باہمی سمجھوتے پر مبنی ہونا چاہئے۔پانچویں ہر سیاسی اصل ضروری نہیں کہ ہر جگہ اپنی تمام شقوں کے ساتھ چسپاں ہو سکے۔میرا تجربہ ہے کہ انگلستان کے اکثر مد بر اپنے ملک کے تجربہ کو ہندوستان پر ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ہندوستان کے حالات یقیناً انگلستان سے مختلف ہیں۔یہاں آزادی کا بھی اور مفہوم ہے اور انصاف کا بھی اور مفہوم ہے۔مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ جب انہوں نے مسٹر گاندھی سے سوال کیا کہ کیا آزاد ہندوستان میں مذہب کی تبدیلی کی اجازت ہوگی ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مذہب کی آزادی ضرور ہوگی مگر مذہب کی تبدیلی ایک سیاسی مسئلہ ہے اس بارہ میں حکومت مناسب رویہ اختیار کر سکتی ہے۔میرے نزدیک یہ نظریہ آزادی کے صریح خلاف ہے۔میں نے اس امر کی تحقیق کے لئے جماعت احمدیہ کے مرکزی عہدہ داروں سے کہا کہ وہ کانگرس سے اس کا نقطه نگاه دریافت کریں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ جماعت کے سیکرٹری نے اس بارہ میں جو چٹھی لکھی اس کا جواب کانگرس کے سیکرٹری نے نہیں دیا۔پھر رجسٹری خط گیا اس کا بھی جواب نہیں دیا۔اس پر تیسرا خط رجسٹری کر کے ارسال کیا گیا مگر اس کا جواب بھی نہ دیا گیا۔تب تار دی گئی کہ اگر اب بھی جواب نہ دیا گیا تو معاملہ مسٹر گاندھی کے سامنے رکھا جائے گا۔اس پر کانگرس کے سیکرٹری نے جواب دیا کہ مسٹر بوس کو افسوس ہے کہ اب تک جواب نہیں دیا گیا (اُس وقت مسٹر سبھاش چندر بوس کانگرس کے پریذیڈنٹ تھے ) اب جواب بھیجوایا جا رہا ہے۔یہ جواب جب موصول ہوا تو اس میں یہ لکھا تھا کہ آپ کو کانگرس کے کراچی ریزولیوشن نمبر فلاں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔جب لکھا گیا کہ اسی ریزولیوشن کی تعبیر کے متعلق تو ہمارا سوال ہے تو اس کا یہ جواب دیا گیا کہ کانگرس ہی اپنے ریزولیوشن کی تعبیر کرسکتی ہے۔جب اس پر کہا گیا کہ کانگرس سے تو اس کے عہدہ دار ہی پوچھ سکتے ہیں ہمارے پاس کونسا ذریعہ ہے تو اس پر جواب دیا گیا کہ ہم نہیں پوچھ سکتے آپ ہی دریافت کریں۔اس واقعہ نے ثابت کر دیا کہ کانگرس کے نزدیک آزادی کا مفہوم یورپ کے زمانہ وسطی والا ہے جسے مسلمان کسی صورت میں تسلیم نہیں کر سکتے۔چنانچہ عملاً اس کا یہ نمونہ موجود ہے کہ ہندو ریاستوں میں ایک ہندو اگر مسلمان ہو جائے تو اوّل بغیر مجسٹریٹ کی اجازت کے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔دوم اسے اپنے ورثہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔کانگرس سے جو