انوارالعلوم (جلد 18) — Page 9
انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام ہمارے حضور چلا کر کہا کہ اے خدا! اس قسم کے حاکم ہم پر مسلط ہورہے ہیں جو ہمارے حقوق کو ادا نہیں کرتے تو خدا نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اپنی شریعت میں یہ حکم نازل فرما دے کہ ہمیشہ حکام انتخاب سے مقرر کئے جائیں۔اور ایسے حاکم چنے جائیں جو انصاف اور عدل کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہوں اور حکومت کے اہل ہوں۔اسی طرح حکام کو خدا نے اپنی شریعت میں یہ حکم دے دیا کہ دیکھو! ہمیشہ عدل اور انصاف سے کام لو، ملک کی اقتصادی حالت کو ترقی دینے کی کوشش کرو، رعایا کے جان و مال کی حفاظت کرو ، اقوام اور افراد میں تفریق پیدا نہ کرو، ایسی تدابیر اختیار نہ کرو جو ملک کی ترقی میں روک ڈالنے والی یا آئندہ نسلوں کو تباہ کرنے والی ہوں بلکہ ہمیشہ ایسے طریق اختیار کرو اور ایسے قوانین بناؤ جو ملک کی ترقی کا موجب ہوں۔حکومت کے متعلق اسلام یہ وہ ماحول ہے جس میں اسلام اقتصادی نظام پیش کرتا ہے اور بغیر کسی مناسب ماحول کے کوئی اچھے سے اچھا کی چار اصولی ہدایات نظام بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اسلام دنیا میں پہلا مذہب ہے جس نے (1) انتخابی حکومت کا اصول مقر ر کیا ہے اور حکومت کی بنیا داہلیت پر قائم کی۔(۲) جس نے حکومت کو ملکیت نہیں بلکہ امانت قرار دیا ہے۔(۳) جس نے لوگوں کی عزت، جان اور مال کی حفاظت کو حکومت کا مقصد قرار دیا ہے۔(۴) جس نے حاکم کو افراد اور اقوام کے درمیان عدل کرنے کی تاکید فرمائی اور اُسے خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ قرار دیا ہے۔غرض اسلام کے نزدیک کوئی نسلی بادشاہ نہیں وہ صاف اور کھلے طور پر فرماتا ہے کہ إن الله يأمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِما، یعنی خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم حکومت کی امانت ہمیشہ اہل لوگوں کے سپرد کیا کرو۔پس اسلام کسی نسلی بادشاہت کا قائل نہیں بلکہ اسلام کے نزدیک حکومت انتخابی اصل پر قائم ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ غور وفکر کے بعدا اپنی قوم میں سے بہترین شخص کے سپر دحکومت کی امانت کیا کریں۔جب تک مسلمان قرآن کریم کے احکام پر عمل کرتے رہے وہ اسی رنگ میں حکام کا انتخاب کرتے رہے اور آئندہ بھی جب