انوارالعلوم (جلد 18) — Page 291
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۹۱ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کریں اگر انہیں کام سیکھنے کی ضرورت ہوئی تو ہم انہیں کا م سکھائیں گے ، انہیں تجارت کے لئے موزوں مقام بتائیں گے، انہیں کارخانوں سے مال دلوا دیں گے اور اگر کوئی مشکل پیش آئے گی تو اُس کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔افریقہ میں ایسا ہی ہوا کہ بعض لوگ وہاں تجارت کے لئے گئے تو ہم نے اپنی ضمانت پر انہیں کارخانوں سے مال دلوا د یا نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان اس طرف توجہ کریں تو ہم قلیل ترین عرصہ میں ہی سارے ملک میں اپنے تاجر اور صناع پھیلا سکتے ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ جس جس علاقہ میں ہمارا تاجر اور صناع ہوگا ان علاقوں میں صرف ان کی تجارت اور صنعت ہی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ جماعت بھی پھیلے گی۔ایک اور امر جس کی طرف میں اس موقع پر جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ سائنس ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے۔اس انسٹیٹیوٹ کے ماتحت ہم ملک کے مختلف حصوں میں بعض کارخانے کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لئے ہمیں روپیہ کی ضرورت ہو گی۔جماعت کو چاہئے کہ وہ تیار رہے اور جب مرکز کی طرف سے تحریک ہو تو اس میں پورے جوش کے ساتھ حصہ لے۔خصوصیت کے ساتھ میں کارخانہ داروں اور تاجروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنے آپ کو منظم کرنے کی کوشش کریں اور سائنس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماتحت جو کارخانے کھولے جائیں گے ان میں حصہ لیں تا کہ ہماری جماعت صنعت و حرفت کے میدان میں بھی ترقی کر سکے اور مزدوروں اور ادنی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ترقی کا سامان پیدا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم ادنی اور پس ماندہ اقوام کو اسلام میں داخل کرنا چاہیں تو ہمارے لئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ یا تو ہمارے پاس بہت بڑی زمینیں اور جائدادیں ہوں اور یا پھر صنعت و حرفت کے لحاظ سے ہمارے پاس کافی طاقت ہو۔مجھے ایک دفعہ کانگڑہ کے ضلع سے ایک شخص جو اپنی قوم کا لیڈر تھا ملنے کے لئے آیا اور اس نے کہا ہمارے سات ہزار آدمی اسلام لانے کے لئے تیار ہیں۔میں نے کہا یہ تو بڑی اچھی بات ہے لیکن آپ کو یہاں آنے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ کہنے لگا کوئی بات نہیں ہم کا شتکاری کرتے ہیں اور روپیہ ہمارے پاس کافی ہے اپنے متعلق بتایا کہ میں ٹھیکیدار ہوں اور مجھے مالی رنگ میں کسی قسم کی احتیاج نہیں۔میں نے