انوارالعلوم (جلد 18) — Page 271
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۷۱ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد میں پیشاب کے لئے جا سکتا ہوں نہ پاخانہ کے لئے ، چار پائی پر ہی پاٹ رکھنا پڑتا ہے اور حالت ایسی ہوتی ہے کہ نہ دائیں کروٹ بدل سکتا ہوں نہ بائیں بالکل سیدھا لیٹا رہتا ہوں اور ۱۲،۱۲،۱۰،۱۰ بلکہ بعض دفعه ۲۴ ، ۲۴ گھنٹہ تک یہی حالت رہتی ہے۔اگر اس دوران میں افاقہ بھی ہو تو بہت معمولی ہوتا ہے ایسی حالت میں اگر بیوی بعض دفعہ تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنے کسی کام کے لئے جانا چاہے اور وہ کہے کہ اگر کوئی ضرورت ہوتو مجھے بتا دیں تو میں نے دیکھا ہے دو چار منٹ کی ضرورتیں بھی پورے طور پر نہیں بتائی جاسکتیں۔بعض دفعہ خیال آتا ہے کہ کوئی ضرورت نہیں مگر اس کے جاتے ہی کئی قسم کی ضرورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ کہا جاتا ہے صرف دوائی پاس رکھ دو اور کسی چیز کی ضرورت نہیں مگر بعد میں خیال آتا ہے کہ ایک ضروری خط لکھنا تھا اس کے لئے قلم چاہئے مگر اُس وقت کوئی ایسا شخص قریب نہیں ہوتا جسے قلم پکڑانے کے لئے کہا جائے۔جب چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بھی انسان دوسرے کو پورے طور پر نہیں بتا سکتا تو دین کے معاملہ میں کون شخص ایسا ہو سکتا ہے جو اوّل سے آخر تک تمام باتیں دوسروں کو بتا سکے۔اگر دوسروں کی بتائی ہوئی باتوں پر ہی انسان اپنا انحصار رکھے اور خدا تعالیٰ سے اس کا ذاتی تعلق نہ ہو تو عملی زندگی میں اس کی یہی حالت رہے گی کہ دیکھ لو سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لو۔آپ نے قرآنی احکام کی کس قدر تشریح کی ہے اور کس کثرت کے ساتھ آپ نے اپنی اُمت کو روحانی مسائل سکھائے ہیں مگر با وجود ان تمام تشریحات کے ہر زمانہ میں نئے سوال پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کے لئے کوئی نیا مثیل محمد پیدا ہوتا ہے اور وہ لوگوں کے پیدا کردہ شبہات و وساوس کا ازالہ کرتا ہے اور یہ سنت اللہ ایسی ہے جو ہر زمانہ میں جاری رہتی ہے۔ہر زمانہ کی الگ الگ ضرورتیں ہوتی ہیں اور ہر زمانہ میں دشمنانِ اسلام کی طرف سے نئے نئے اعتراضات کئے جاتے ہیں اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں ان کے اعتراضات کے جوابات اور اسلام کے احیاء کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے مثیل محمد پیدا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم جس قدر باتیں بیان کرتے ہیں وہ قرآن کریم میں موجود ہوتی ہیں ، احادیث سے ان کی تائید ہوتی ہے، آئمہ سلف کی شہادت ان