انوارالعلوم (جلد 18) — Page 267
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۶۷ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد بات تمہاری سمجھ میں آجائے تو اسے مان لیا کرو اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ وہ خود تمہیں سمجھائے اور اپنے پاس سے علم عطا فرمائے۔اس نصیحت کے بعد میں نے پھر حضرت خلیفہ اول سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا۔کچھ دن گزرے تو آپ نے حافظ صاحب کو بھی ڈانٹ دیا کہ وہ دورانِ سبق سوالات نہ کیا کریں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے روزانہ بخاری کا آدھ آدھ پارہ پڑھنا شروع کر دیا۔بے شک اور علوم بھی ہم پڑھتے تھے لیکن بہر حال آدھ پارہ روزانہ تبھی ختم ہو سکتا ہے جب طالب علم اپنے منہ پر مہر لگالے اور وہ فیصلہ کر لے کہ میں نے استاد سے کچھ نہیں پوچھنا۔جو کچھ وہ بتائے گا اسے سنتا چلا جاؤں گا۔پس علم حقیقی جو ہر قسم کے شبہات ووساوس کا ازالہ کر سکتا ہو اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے اور وہی قوم دنیا میں علم کو وسیع طور پر پھیلا سکتی ہے جس کا خدا تعالیٰ سے ایسا مضبوط تعلق ہو کہ خدا تعالیٰ اسے اپنے پاس سے علم سکھائے اور اس کی ہر مشکل کو دور کرے۔میں بچہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی زندہ تھے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا جو میں نے بارہا سنایا ہے مگر وہ رویا ایسا ہے کہ اگر میں اُسے لاکھوں دفعہ سناؤں تب بھی کم ہے اور اگر تم اسے لاکھوں دفعہ سنوتب بھی کم ہے ، پھر اگر تم لاکھوں دفعہ سُن کر اس پر لاکھوں دفعہ غور کرو تب بھی اس کی اہمیت کے لحاظ سے یہ کم ہو گا۔میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں مشرق کی طرف میرا منہ ہے کہ یکدم مجھے آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے پیتل کا کوئی کٹورا ہو اور اُسے انگلی سے ٹھکوردیں تو اُس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔مجھے بھی ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے کٹورے کو انگلی ماری ہے اور اس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوئی ہے۔پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز پھیلنی اور بلند ہونی شروع ہوئی جیسا کہ آواز میں ہمیشہ جو میں پھیلا کرتی ہیں۔پہلے تو وہ آواز مجھے سمٹی ہوئی معلوم ہوئی مگر پھر دُور دُور تک پھیلنی شروع ہوگئی جب وہ آواز تمام جو میں پھیلنے لگی تو میں نے ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ وہ آواز ساتھ ہی ساتھ ایک نظارہ کی شکل میں بدلتی چلی گئی۔گویا وہ خالی آواز ہی نہ رہی بلکہ ساتھ ہی ایک نظارہ بھی پیدا ہو گیا۔رفتہ رفتہ آواز بھی غائب ہوگئی اور صرف نظارہ رہ گیا۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ نظارہ سمٹ سمٹا کر تصویر کا ایک فریم بن گیا۔اُس فریم کو میں حیران ہو کر دیکھنے لگا کہ عجیب تماشا ہے کہ پہلے آسمان سے