انوارالعلوم (جلد 18) — Page 6
انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام ویسے ہی جیسے ایک باغی غلام یا سرکش ملازم اپنے آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے اپنے ان افعال کی سزا پائیں گے خواہ وہ بادشاہ کہلاتے ہوں یا ڈکٹیٹر کہلاتے ہوں یا پارلیمنٹ کہلاتے ہوں۔پس اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص جو بادشاہ بنتا ہے خدا تعالیٰ کی مرضی سے بنتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دائرہ عمل میں خدا تعالیٰ کی ملکیت پر قابض ہوتا ہے اس لئے اُسے خدائی آئین کے مطابق حکومت کرنی چاہئے اور خدا تعالیٰ کی نیابت میں اپنے اقتدار کو استعمال کرنا چاہئے ورنہ وہ گنہگار ہو گا۔ہاں بعض حالات میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی بادشاہ مقرر کئے جاتے ہیں جو بہر حال نیک اور منصف ہوتے ہیں مگر اُن کی بادشاہتیں دینی ہوتی ہیں دُنیوی نہیں۔حکام کیلئے اسلامی احکام اس طرح حکام کے بارے میں فرماتا ہے کہ بعض حاکم ایسے ہوتے ہیں کہ وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ ليُفسد فيها ويُهْلِكَ الْحَرْتَ وَالنِّسْلَ وَالله لا يُحِبُّ الفَسَاد یعنی دنیا میں کئی حاکم اور بادشاہ ایسے ہوتے ہیں کہ جب اُنہیں بادشاہت مل جاتی ہے یعنی وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ طاقتوں سے کام لے کر حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ رعایا اور ملک کی خدمت کریں، بجائے اس کے کہ امن قائم کریں ، بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کریں وہ ایسی تدابیر اختیار کرنی شروع کر دیتے ہیں جن سے قو میں قوموں سے قبیلے قبیلوں سے اور ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں اور ملک میں طوائف الملو کی کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے ملک کی تمدنی اور اقتصادی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور آئندہ نسلیں بریکا ر ہو جاتی ہیں۔حرث کے لغوی معنی تو کھیتی کے ہیں مگر یہاں حرث کا لفظ استعارہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جتنے ذرائع ملک کی اقتصادی ترقی کے یا جتنے ذرائع مُلک کی مالی حالت کو ترقی دینے والے یا جتنے ذرائع ملک کی تمدنی حالت کو بہتر بنانے والے ہوتے ہیں اُن ذرائع کو اختیار کرنے کی بجائے وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے تمدن تباہ ہو، اقتصاد برباد ہو، مالی حالت میں ترقی نہ ہو اس طرح وہ نسلوں