انوارالعلوم (جلد 18) — Page 5
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام حکومت و بادشاہت کے پھر قرآن کریم یہ امر بھی صراحتا بیان فرماتا ہے کہ بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اس پر متعلق اسلام کا نقطہ نگاہ کسی کا ذاتی حق نہیں ہوتا۔چنانچہ فرماتا ہے۔قل اللهم ملك الْمُلْكِ تُوقِ المُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنْزِعُ المُلكَ مِمَّن تَشَاءُ وتعز من تشاء وتذل من تشاء، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ : یعنی اے مخاطب تو کہہ دے کہ اے اللہ ! تمام بادشاہتوں کے مالک خدا! تو جس کو چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس کے ہاتھ سے واپس لینا چاہے اُس کے ہاتھ سے واپس لے لیتا ہے۔جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ساری خیر اور نیکی تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت میں بھی بتایا گیا ہے کہ بادشاہت جب کسی شخص کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت آتی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر صورت میں ہر بادشاہ اور مقتد رکو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکومت ملتی ہے خواہ وہ کیسا ہی جابر بادشاہ ہو یا کیسا ہی ظالم ہو یا کیسا ہی گندہ اور خراب ہو وہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کا نمائندہ ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بادشاہت ملنے کے سامان خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کئے جاتے ہیں۔پس اگر کسی کو بادشاہت ملتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کے پیدا کردہ اسباب سے کام لینے کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے اور جبکہ بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے تو جسے بھی بادشاہت یا کوئی اقتدار حاصل ہو وہ زیادہ سے زیادہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وکیل اور متوتی قرار دیا جا سکتا ہے حاکم مطلق یا مالک مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔آخری طاقت اور آخری فیصلہ کرنے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔بہر حال جو بھی حاکم ہو، بادشاہ ہو، ڈکٹیٹر ہو یا پارلیمنٹ کی صورت میں بعض افراد کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہوا گر وہ کوئی آئین دنیا میں نافذ کرتے ہیں تو وہ اُس آئین کے نفاذ میں خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔اگر وہ کوئی ایسی خرابی پیدا کریں گے جس سے خُدا تعالیٰ نے روکا ہوا ہے یا کوئی ایسی نیکی ترک کریں گے جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت میں پیش ہوں گے۔