انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 250

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۵۰ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں کے لحاظ سے کافی سستی تھی اب تو کشتی دوسو روپے میں ملتی ہے۔ہم قادیان کی ڈھاب میں اُس کشتی پر سیر کیا کرتے تھے۔جیسے بچوں کا قاعدہ ہے دس پندرہ دن تک تو ہم با قاعدہ سیر کرتے رہے، پھر ہفتہ میں تین دن سیر کرتے ، پھر ہفتہ میں دو دن اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم پندرہویں دن سیر کیلئے جاتے۔جب ہم وہاں نہ ہوتے تو باہر کے لڑکے آ کر اُس کشتی کو چلاتے۔جب ہم کشتی کو آکر دیکھتے تو پہلے سے کچھ نہ کچھ خستہ حالت میں ہوتی۔میں اس حالت سے بہت تنگ آیا اور میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ کسی طرح تم انہیں پکڑوا دو۔ایک دن عصر کے وقت ایک لڑکا دوڑا ہوا آیا اور کہا کہ میں ان لڑکوں کو پکڑوا دوں۔اُس کشتی میں زیادہ سے زیادہ دس بارہ آدمی بیٹھ سکتے تھے لیکن جب میں وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ اٹھارہ انیس لڑ کے بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے اتنے آدمی کشتی میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر غصہ سے کہا جلدی ادھر کشتی لاؤ۔وہ گاؤں کے لڑکے تھے اور گاؤں والوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بڑے زمینداروں کا مقابلہ کر سکیں۔اس ڈر سے کہ کہیں پٹ نہ جائیں اُن میں سے کچھ نے چھلانگیں لگا دیں اور تیر کر دوسرے کنارے نکل گئے اور کچھ اتنے مغلوب ہوئے کہ وہیں بیٹھے رہے اور کشتی کو کنارے کی طرف لے آئے۔میں غصہ سے سوئی پکڑے ہوئے کھڑا تھا اور اس خیال میں تھا کہ جب یہ باہر آئیں گے تو میں انہیں خوب ماروں گا۔وہ جب قریب آئے اور میری یہ حالت دیکھی تو اُن میں سے سوائے ایک کے باقی سب نے پانی میں چھلانگیں لگا دیں اور مختلف جہات کو روڑ گئے۔صرف ایک لڑکا کشتی میں رہ گیا جسے میں نے پکڑ لیا۔میں سمجھتا تھا کہ اصل شرارتی یہی ہے اُس نے مدرسہ احمدیہ کے باورچی خانے کے پاس جہاں خانصاحب فرزند علی صاحب کا مکان ہے اور آجکل وہاں دفتر بیت المال ہے کشتی لا کر کھڑی کی۔جب وہ کشتی سے اتر اتو میں نے کہا دھر آؤ۔قریب آنے پر میرے دل میں معلوم نہیں کیا خیال آیا کہ میں نے سوٹی رکھ دی اور اُسے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا۔جس وقت میں نے ہاتھ اُٹھایا تو اُس نے بھی ہاتھ اُٹھایا۔میں نے اُس کو مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تھا لیکن اُس نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہاتھ اُٹھایا تھا۔اُس کی اس حرکت کی تاب نہ لاتے ہوئے اور زیادہ غصہ میں آکر میں نے اپنا ہا تھ اور پیچھے کی طرف کھینچا تا کہ اُسے زور سے چانٹا رسید کروں لیکن جونہی میں نے ہاتھ پیچھے کیا اُس نے ہاتھ