انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 251

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۵۱ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں نیچے گرا دیا۔اس وقت میری عمر ۱۷ سال کے قریب تھی آج میں ۵۷ سال کا ہو گیا ہوں گویا اِس واقعہ کو چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن جب بھی یہ واقعہ مجھے یاد آتا ہے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پسینہ چھٹ جاتا ہے۔جب اُس نے ہاتھ گرا یا تو میں اُس وقت اتنا شرمندہ ہوا کہ میں سمجھتا تھا کہ کسی طرح زمین پھٹ جائے تو میں اس میں سما جاؤں۔یہ میرے سامنے کھڑا ہے اور اُس نے ہاتھ پیچھے گرا لیا ہے گویا دوسرے الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ مجھے مارلو۔اُس کی یہ نرمی میرے لئے اتنی تکلیف دہ تھی کہ میں اُس وقت اپنے آپ کو دنیا کا ذلیل ترین انسان خیال کرتا تھا۔میں کہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور مجھے یہ ذلت کی حالت نہ دیکھنی پڑے۔اب دیکھو یہ کتنی چھوٹی سی چیز تھی۔کشتی صرف ۲۷ روپے کی تھی اور وہ بھی چند آدمیوں کے چندہ سے خریدی ہوئی اور وہ بھی پرانی۔پھر وہ سیکنڈ ہینڈ کشتی تھرڈ ہینڈ بنی پھر فورتھ ہینڈ بنی اور پھر فتھ ہینڈ بنی لیکن اس پر بھی میں جوش میں آکر اسے مارنے لگا مگر اُس نے اپنا ہاتھ نیچے کر لیا۔اس کا نیچے ہاتھ گرانا کسی جذبہ شرافت کے ماتحت نہیں تھا صرف اس لئے تھا کہ وہ جانتا تھا کہ بڑے آدمی کے بیٹے ہیں اگر مارا تو ان کے ساتھی مجھے ماریں گے۔پھر یہ بھی نہیں تھا کہ مظلوم ہونے کے باوجود اُس نے مجھ پر رحم کیا ہو بلکہ ظالم وہ تھا اور کمز ور وہ تھا مگر با وجود اس کے کہ وہ ظالم تھا اور کمزور تھا۔اُس کا یہ فعل میرے لئے اتنا تکلیف دہ ہوا کہ آج تک اس واقعہ کو یا د کر کے میں شرمندہ ہو جاتا ہوں۔پس کیا حال ہوا ہوگا اُن بڑے بڑے آدمیوں کا جو میدانوں میں نکل نکل کر کہتے تھے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی اولاد کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے ، جو کہا کرتے تھے کہ یہ نو جوان تیرے چند روزہ ساتھی ہیں یہ تیرا ساتھ چھوڑ دیں گے ، جنہیں وہ بھاگ جانے والے کہتے تھے اور جن کے سامنے وہ میدان میں گھوڑے دوڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ آؤ مقابل پر ، اور جنہیں وہ کمینہ آدمی سمجھتے تھے جب وہ اُن کے سامنے تلوار نہ اُٹھا سکے اور مغلوب ہوئے تو اُن کی کیا حالت ہوئی ہوگی۔وہ اُس وقت کتنے ذلیل اور شرمندہ ہوئے ہوں گے اور کس طرح اُن کے ناک رگڑے گئے ہوں گے۔جب اُن سے ہار کر اُنہوں نے خود استدعا کی کہ ہم سے یوسف کے بھائیوں کا سا سلوک کیا جائے۔اور پھر اس وقت کیا حالت ہوئی ہوگی جب واقعہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں یہ فرمایا کہ ہاں ہاں تم سے یوسف کے