انوارالعلوم (جلد 18) — Page 247
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۷ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں الگ رہی ہم دنیا وی حیثیت دیکھتے ہیں تو وہ بھی نہیں رہی۔کجاوہ وقت تھا کہ ایک مسلمان خواہ کسی جگہ پر چلا جاتا ) چاہے وہ چوڑھا ہوتا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُس کی طرف انگلی نہ اٹھا سکتا۔چین کا بادشاہ جس کی بادشاہت اس زمانہ کے لحاظ سے بہت بڑی بادشاہت تھی اُس کو بھی حوصلہ نہیں تھا کہ ایک چوڑھے مسلمان کی طرف اُنگلی اُٹھا سکے اس لئے کہ سارا عالم اسلامی اس کی پشت پر تھا۔آخری زمانہ میں مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ خلافت بغداد بالکل تباہ ہوکر ریاستوں کی شکل اختیار کر چکی تھی لیکن نام باقی تھا۔کہتے ہیں کہ ہاتھی مرا ہوا بھی بھاری ہوتا ہے۔خلافت تو تھی گو چند گاؤں بھی ان کے قبضہ میں نہ رہے تھے صرف بغداد تھا باقی سب جگہ دوسری بادشاہتیں قائم ہوگئی تھیں۔وہ بادشاہ مطلق العنان ہونے کے باوجود بھی خلافت کا احترام کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو غائب بادشاہ ہیں، اصل بادشاہ خلیفہ ہے۔یوں وہ اپنا قانون چلاتے تھے ، اپنی فوجیں رکھتے تھے ، خود ہی لڑائیاں لڑتے تھے ، خود ہی فیصلہ کرتے تھے، خود ہی معاملات طے کرتے تھے اور خلیفہ کو پوچھتے تک بھی نہ تھے مگر اس نام کی بھی برکت تھی۔اُس زمانہ میں مسلمانوں کے ایک علاقہ میں سے جب کہ مسلمان کمزور ہو چکے تھے یورپین فو جیں گزریں اور اُنہوں نے کسی مسلمان عورت کو چھیڑا ( اُس بیچاری کو کچھ پتہ نہ تھا کہ خلافت ٹوٹ چکی ہے اور تقسیم ہو کر مختلف حصوں میں بٹ چکی ہے وہ یہی سنتی آ رہی تھی کہ ابھی تک یہاں خلیفہ کی حکومت ہے ) اُس نے اسی خیال کے ماتحت خلیفہ کو پکار کر بآواز بلند يَا لَلْخَلِيفَة کہا۔یعنی اے خلیفہ میں مدد کے لئے تمہیں آواز دیتی ہوں۔اُس وقت وہاں سے ایک قافلہ گزر رہا تھا اُس نے یہ باتیں سنیں۔وہ قافلہ بغداد کی طرف جا رہا تھا۔پُرانے زمانہ میں رواج تھا کہ جب قافلہ شہر میں آتا تو قافلہ کی آمد کی خبر سن کر لوگ شہر کے باہر قافلہ کے استقبال کے لئے جاتے۔تاجر لوگ بھی اُس وقت وہاں پہنچ جاتے اور آجکل کی بلیک مارکیٹ کی طرح وہیں مال خریدنے کی کوشش کرتے کیونکہ جو مال باہر سے آتا تھا وہ سفر کی مشکلات کی وجہ سے بہت کم آتا تھا اس لئے ہر ایک تاجر یہی کوشش کرتا کہ وہیں جا کر سو دا کرے اور اُسے دوسروں سے پہلے حاصل کرے۔جب وہ قافلہ آیا اور شہری اُس کے استقبال کے لئے شہر سے باہر گئے اور اُسے ملے تو اہلِ شہر نے اُن سے سفر کے حالات پوچھنے شروع کئے اور کہا کہ کوئی نئی بات سناؤ۔اُنہوں نے کہا سفر ہر طرح