انوارالعلوم (جلد 18) — Page 4
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام لئے اسلام کے اقتصادی نظام کو بیان کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اختصار کے ساتھ یہ بھی بیان کر دوں کہ اسلام کے گلی نظام کی بنیاد کس امر پر ہے۔ اور اسلام کے گل نظام کی اداری بنیاد اسلام اپنے تمام سیاسی ، اقتصادی اور تمدنی اور دیگر - ہر قسم کے نظاموں کی بنیاد اس امر پر رکھتا ہے کہ بادشاہت اور مالکیت خدا تعالیٰ کو ہی حاصل ہے چنانچہ سورۃ زخرف رکوع سات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ تَبْرَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ) یعنی بہت برکت والا وہ خدا ہے جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اسی طرح جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھی اُسی کے قبضہ و تصرف میں ہے اور ان چیزوں کا اپنے مقصد اور مدعا کو پورا کر کے جب فناء کا وقت آئے گا تو اس کا علم بھی اُسی کو ہے اور پھر آخر ہر چیز خدا کی طرف ہی جانے والی ہے۔ اِس آیت میں قرآن کریم نے یہ بات پیش کی ہے کہ در حقیقت آسمان اور زمین خدا تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہر چیز جو یہاں زندگی گزار رہی ہے اس کا منتہی اور مرجع خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ اگر کوئی شخص کسی امر کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے یا کوئی امانت اُس کے سپرد کی جاتی ہے تو وہ اس ذمہ داری کی ادائیگی اور اس امانت میں خیانت نہ کرنے کے متعلق امانت سپرد کرنے والے کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے لیکن وہ شخص جو آزاد ہوتا ہے اپنے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ میں جس طرح چاہوں کروں میں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں ۔ پس قرآن کریم نے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ دنیا جہان کی حکومتیں، بادشاہتیں اور اقتدار چونکہ خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اور اُس کی طرف سے بطور امانت انسانوں کے سپرد ہیں اس لئے سب انسان بادشاہتوں اور ظاہری ملکیتوں کے متعلق اپنے آپ کو آزاد نہیں سمجھ سکتے ۔ وہ بظاہر بادشاہ یا بظاہر مالک ہیں لیکن حقیقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے متوتی ہیں اس لئے جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اُنہیں اِن امانتوں کے صحیح مصرف کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہونا ہوگا۔