انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 237

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۳۷ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں کر کے آئے ہو ( کیونکہ اُن کے پیر کا حکم تھا کہ تم چونکہ دادا پیر کے پاس جا رہے ہو اس لئے پیدل جانا ہوگا ) بتاؤ تمہیں یہاں آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ ایمان انسان کو عقل بھی دے دیتا ہے بلکہ عقل کو تیز کر دیتا ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُن میں سے ایک نو مسلم کہنے لگا کہ ہم پڑھے لکھے تو ہیں نہیں اور نہ ہی کوئی علمی جواب جانتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ آپ کو بھلے مانس مرید ملے نہیں اس لئے آپ چوہڑوں کے پیر بن گئے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ملا ؟ آپ مرزا صاحب کی مخالفت کر کے مرزا سے چوہڑے بن گئے اور ہم مرزا صاحب کو مان کر چوہڑوں سے مرزا ہو گئے۔لوگ ہمیں مرزائی، مرزائی کہتے ہیں یہ کتنا بڑا فائدہ ہے جو ہمیں حاصل ہوا۔اب دیکھو یہ کیسی مشابہت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں کی باتوں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ داروں کی باتوں میں۔مرزا علی شیر صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سالے اور مرز افضل احمد صاحب کے خسر تھے۔اُنہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔رستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے تسبیح کے دانے پھیرتے رہتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے۔بڑا لٹیرا ہے لوگوں کو لوٹنے کے لئے دُکان کھول رکھی ہے بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دار الضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے۔اُس وقت یہ تمام زمین زیر کاشت ہوتی تھی ، عمارت کوئی نہ تھی ، بڑی لمبی سفید ڈاڑھی تھی سفید رنگ تھا، تسبیح ہاتھ میں لئے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار تھے، تسبیح لئے بیٹھے رہتے جو کوئی نیا آدمی آتا اُسے اپنے پاس بلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کر دیتے کہ مرزا صاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے آخرمیں نے کیوں نہ اسے مان لیا؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ میں اس کے حالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جولوگوں کولوٹنے کے لئے کھولی گئی ہے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ باہر سے پانچ بھائی آئے غالباً وہ چک سکند رضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔اب تو لوگ جلسہ کے دوران میں بھی باہر پھرتے رہتے ہیں لیکن اُن پہلے لوگوں میں اخلاص نہایت اعلیٰ درجہ کا تھا اور قادیان میں دیکھنے کی کوئی خاص چیز نہ تھی ، نہ منارۃ المسیح تھا، نہ