انوارالعلوم (جلد 18) — Page 222
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۲۲ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا رقم لی سے۔اب دیکھو لینے والا کم بتا تا ہے اور دینے والا زیادہ بتاتا ہے۔لیکن لینے والا کہتا ہے یہ صدقہ ہے میں نہیں لینا چاہتا اور دینے والا کہتا ہے میں زیادہ دوں گا میں کسی کا مال نہیں کھانا چاہتا۔یہی چیز تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکومت دی۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوسکتا ہے کہ جب مسلمان یروشلم کو (جس پر کہ ان کا قبضہ تھا ) کسی وجہ سے چھوڑ کر واپس آنے لگے تو بجائے اس کے کہ اس وقت اہلِ شہر جو عیسائی تھے خوش ہوتے کہ مسلمان ہمارے ملک سے نکل گئے ہیں اور اب ہماری اپنی حکومت ہوگی۔وہ روتے ہوئے اُن کے ساتھ شہر سے باہر آئے وہ روتے تھے اور دعائیں کرتے تھے کہ خدا آپ لوگوں کو پھر ہمارے شہر میں واپس لائے ہے۔اس نیکی کو پیدا کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں تشریف لائے اور آپ نے ایک جماعت قائم کی اب ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ ایسے اخلاق پیدا کرے جو نہایت اعلیٰ درجہ کے ہوں اور جن سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بن جائے۔میں نے یورپین قوموں کی جہاں بُرائی بیان کی ہے وہاں اُن کی ایک خوبی بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں۔ان میں یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ قانون کو قائم رکھتے ہیں جہاں وہ لوگوں کی جائدادوں پر قبضہ کر لیتے ہیں وہاں جو قانون بناتے ہیں اُس پر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ہمارے ملک کے لوگ خواہ کسی درجہ کے ہوں وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔اسی وجہ سے جب کسی انگریز کے پاس مقدمہ چلا جائے تو کہتے ہیں کہ انصاف ہو جائے اور جب مقدمہ کسی ہندوستانی کے پاس جائے تو کہتے ہیں کہ انصاف کی کوئی امید نہیں یہاں سفارش چل جائے گی۔حتی کہ جوں کے متعلق شبہ کرتے ہیں یہ شبہ چاہے غلط ہو یا درست آخر شبہ ہندوستانیوں کو اپنے بھائیوں کے متعلق کیوں پڑتا ہے، اور انگریز جو غیر قوم ہے اس کے متعلق کیوں نہیں ہوتا اسی لئے کہ اگر چہ یورپین لوگ ایک ایسی تلوار ہیں جو قوموں کی قوموں کو کاٹتی چلی جاتی ہیں لیکن جو خاص جوڈیشنل معاملات ہیں اُن میں وہ انصاف کو پوری طرح مد نظر رکھتے ہیں۔اسی وجہ سے دوسروں پر ان کا اچھا اثر ہوتا ہے اور وہ اپنی ملکی حکومت کی بجائے غیر قوموں کی حکومت کو پسند کرتے ہیں۔چنانچہ جرمنی کے جنگی مجرموں پر جو مقدمات ہو رہے ہیں ان میں انگریز مجسٹریٹ ہیں اور وکیل بھی۔انگریز ہیں لیکن انہیں وکالت کرتے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ یاد ہی نہیں کہ وہ اتنا لمبا