انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 219

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۱۹ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا میں اُڑا رہا ہے یا کنچنوں کا ناچ کروا کر اور اس طرح دوسرے بیہودہ افعال پر اپنا مال ضائع کر رہا تھا اس لئے ٹانا والوں نے جو کچھ کیا اچھا کیا۔دنیا میں کو ئی شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس قسم کے فعل کو جائز قرار دے ہر شخص انہیں مجرم قرار دے گا اور کہے گا تمہیں اس سے کیا غرض کہ وہ اس کو شراب نوشی یا دوسرے لغو کاموں پر کیوں ضائع کرتا ہے، تم اس کے روپیہ پر قبضہ کرنے والے کون ہو۔یہ حیلہ سازیاں ہیں جو یورپین قوموں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں اور جن کو لوگ کمزور ہونے کی وجہ سے برداشت کر رہے ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بھیڑ یا کسی نہر کے کنارے اوپر کی طرف کھڑا ہو کر پانی پی رہا تھا اور نچلی طرف ایک بکری کا بچہ پانی پی رہا تھا بھیڑیے کا دل للچایا اور اُس نے چاہا کہ کسی بہانے اُسے کھا جاؤں۔اُس نے کہا کیوں بے نالائق۔اب تیری یہ جرات کہ ہمارا پانی گدلا کرتا ہے؟ اس نے کہا حضور اوپر کی طرف کھڑے پانی پی رہے ہیں اور میں نچلی طرف اس لئے آپ کا گدلا پانی تو میری طرف آ سکتا ہے میرا گدلا پانی آپ کی طرف نہیں جا سکتا۔بھیڑئیے نے غصے سے اُس پر جھپٹ کر کہا۔اچھا! اب آگے سے جواب دیتا ہے۔یہی حالت غالب قوموں کی ہوتی ہے وہ اپنی مرضی چلاتی ہیں اور جو بات دل میں آئے خواہ وہ کتنی ہی احمقانہ ہو اس پر عمل شروع کر دیتی ہیں۔جب دنیا کے ایسے گندے حالات ہو جاتے ہیں اور لوگ ظلم میں انتہائی مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نبی آتے ہیں۔اُن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں انصاف قائم کریں لیکن سوال یہ ہے کہ جو تربیت نبی آکر کرتے ہیں اور جو اخلاق نبی کے آنے سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں وہ تربیت اور وہ اخلاق ہماری جماعت کو حاصل ہیں یا نہیں۔میں نے اپنی جماعت میں بھی یہ نقص دیکھا ہے کہ جب کوئی کسی کی چیز لیتا ہے مثلاً کسی کا مکان کرائے پر لیتا ہے تو اُس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اگر میرا زور چلے تو میں کرایہ نہ دوں اور صرف یہی نہیں بلکہ اُس مکان پر قبضہ کر کے وہیں بیٹھا رہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آئے ہوئے اتنا عرصہ ہو گیا لیکن کیا وجہ ہے کہ ہماری ترقی نہیں ہوئی۔میرے نزدیک اس کی وجہ یہی ہے کہ ابھی تک جماعت نے وہ اخلاق پیدا نہیں کئے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔پس اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرو تا تمہیں ترقی ملے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ مظلوم کو بھیڑئیے کے منہ سے نکال