انوارالعلوم (جلد 18) — Page 207
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۰۷ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام سکھ پنجاب میں گل دس بارہ فیصدی ہیں لیکن سفر کے تمام ذرائع انہوں نے اپنے قبضہ میں لے رکھے ہیں۔کسی سٹرک پر کھڑے ہو جاؤ، کسی ضلع یا تحصیل میں چلے جاؤ تم دیکھو گے کہ سائیکلوں پر گزرنے والوں میں دو تہائی سکھ ہوں گے اور ایک تہائی ہندو یا مسلمان ہوں گے۔اور اگر تم گاؤں میں چلے جاؤ تو تم دیکھو گے کہ ایک سکھ سائیکل پر سوار ہے اور اپنی بیوی کو پیچھے بٹھائے لئے جا رہا ہے۔موٹروں کی درستی کے جتنے کارخانے ہیں ان میں سے اکثر سکھوں کے ہیں۔بندوق بنانے ، کارتوس بنانے ، لاریاں بنانے، سائیکل بنانے، مشینری بنانے کے جتنے کارخانے ہیں سب سکھوں کے ہیں کیونکہ جتنی سہولت ان کو ان چیزوں کے بنانے میں ہے دوسرے لوگوں کو نہیں۔اول تو ہمارے مسلمانوں کے پاس موٹریں ہی نہیں اور اگر کسی کے پاس ہے بھی تو وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے اندر کیا ہے۔اگر کسی جگہ موٹر یا لاری خراب ہو جائے تو پھر سورن سنگھ کی منتیں کریں گے کہ اسے درست کر دو۔حقیقت یہ ہے کہ جتنا روپیہ سکھوں کے پاس ہے اتنا قومی طور پر ہندوؤں کے پاس بھی نہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ قوم محنت کی بہت عادی ہے۔لاہور میں ایک سکھ نوجوان سے جو کہ بی۔اے پاس تھا اور بانسوں اور رسیوں کی دُکان کرتا تھا میں نے پوچھا کہ آپ ملازمت کیوں نہیں کر لیتے ؟ وہ کہنے لگا کہ میرے دوسرے ساتھیوں میں سے جو ملازم ہیں کوئی چالیس روپے لیتا ہے اور کوئی پچاس روپے اور میں تین چار سو روپے ماہوار کمالیتا ہوں مجھے نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اگر ہماری جماعت ان کا موں میں ترقی کرنے کی کوشش کرے تو وہ دوسری جماعتوں سے پیچھے رہ جائے۔اگر ہماری جماعت میں سے پانچ چھ فیصدی لوگ مستری ہو جائیں تو پھر اُمید کی جاسکتی ہے کہ ہمارے لوگ مشینری میں کامیاب ہو سکیں گے کیونکہ ان لوگوں کو آرگنائز کر کے آئندہ ان کے لئے زیادہ اچھا پروگرام بنایا جا سکتا ہے اور کچھ اور لوگوں کو ان کے ساتھ لگا کر کام سکھایا جاسکتا ہے۔اس وقت میرے نزدیک اگر مرکزی مجلس ایک موٹر خرید سکے تو یہ بہت مفید کام ہو گا اس کے ذریعے خدام کو موٹر ڈرائیونگ کا کام سکھایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ موٹر کی عام مرمت کیا ہوتی ہے، جو خادم سیکھیں ان میں سے بعض مختلف جگہوں پر موٹر کی مرمت کی دُکان کھول لیں۔