انوارالعلوم (جلد 18) — Page 206
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۰۶ مجلس خدام الاحمدیہکا تفصیلی پر دگرام وو پر بار بن رہے ہیں، وہ اپنے گھر والوں پر بار بنے ہوئے ہیں اگر وہ اپنے آپ کو وقف کریں تو تبلیغ کی تبلیغ اور کام کا کام۔ہمارے ہاں مثل مشہور ہے ” نالے حج نالے بیو پاری تبلیغ کی تبلیغ ہو گی اور بیو پار کا بیوپار ہو گا۔بلکہ ایک اور بات جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی صحتیں نہایت کمزور ہیں اور دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہیں۔جب میں نو جوانوں کی صحتیں دیکھتا ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ہم لوگ جو اپنے آپ کو کمزور صحت والے خیال کرتے ہیں ان نوجوانوں سے اچھے ہیں۔آجکل کے نوجوانوں کے قد بہت چھوٹے ہیں یا بہت پتلے دبلے یا بہت موٹے ، موٹا پا بیماری کی ایک قسم ہوتی ہے، چہرے زرد ہیں اور چہروں پر جھریاں پڑی ہوتی ہیں گویا ان پر جوانی آنے سے پہلے ہی بڑھاپے کا زمانہ آ جاتا ہے۔کہتے ہیں کوئی بڑھا بازار میں پاؤں پھسلنے کی وجہ سے گر پڑا تو بولا ہائے جوانی یعنی اب جوانی جو کہ تنومندی اور قوت کے دن تھے جاتے رہے اور میں محض بڑھاپے کی وجہ سے گر گیا ہوں۔جب اُٹھا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کے اردگرد کوئی آدمی نہیں تو اس پر بولا ” پھٹے منہ جوانی ویلے توں کمپیڑ ا بہا درسی یعنی تیرے منہ پر پھٹکار پڑے تو جوانی کے وقت کونسا بہادر تھا۔ہمارے نو جوانوں کا بھی یہی حال ہے ان پر جوانی آنے سے پہلے ہی بڑھاپے کا زمانہ آجاتا ہے۔اگر نو جوانوں کی صحتوں کی یہی حالت رہی تو یہ خطرہ سے خالی نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ نو جوانوں کی صحت کی طرف جلد توجہ کریں اور ان کے لئے ایسے کام تجویز کریں جو محنت کشی کے ہوں اور جن کے کرنے سے ان کی ورزش ہو اور جسم میں طاقت پیدا ہو۔مثلاً ہر جماعت میں جتنے پیشہ ور ہیں اُن سے کہا جائے کہ وہ خدام کو سائیکل کھولنا اور جوڑنا یا موٹر کی مرمت کا کام یا موٹر ڈرائیونگ سکھا دیں۔یہ کام ایسے ہیں کہ ان میں انسان کی صحت بھی ترقی کرتی ہے اور انسان ان کو بطور ہابی (HOBBY) کے سیکھ سکتا ہے اور اگر اسے شوق ہو تو اس میں بہت حد تک ترقی بھی کر سکتا ہے۔سکھ قوم کے مالدار ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ قوم لاری ڈرائیونگ اور لوہار کے کام میں سب سے آگے ہے اور پنجاب کی تمام لا ریاں اور اکثر مستری خانے ان کے قبضہ میں ہیں جس جگہ جاؤ تمہیں لاری ڈرائیور سکھ ہی نظر آئے گا حالانکہ