انوارالعلوم (جلد 18) — Page 203
انوار العلوم جلد ۱۸ ٢٠٣ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام کتنے خدام پچھلے سال باہر کی جماعتوں سے سالانہ اجتماع میں شمولیت کے لئے آئے اور کتنے اس سال آئے ہیں اسی طرح باہر کی خدام الاحمدیہ کی جماعتیں بھی اپنے ہاں ان باتوں کا ریکارڈ رکھیں کہ پچھلے سال تعلیم کتنے فیصدی تھی اور اس سال کتنے فیصدی ہے،اخلاق میں کتنے فیصدی ترقی ہوئی۔اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ ہر جماعت اجتماع کے موقع پر اپنی رپورٹ پڑھ کر سنائے تا کہ تمہیں معلوم ہو سکے کہ تمہارا قدم ترقی کی طرف جا رہا ہے یا تنزل کی طرف۔اس میں شبہ نہیں کہ کبھی اندازہ میں غلطی بھی ہو سکتی ہے لیکن عام طور پر اندازہ صحیح ہوتا ہے اگر یہ طریقہ اختیار کیا جائے تو کچھ نہ کچھ قدم ضرور ترقی کی طرف اُٹھے گا۔صحیح اندازہ لگانے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ دس فیصدی کام اس رپورٹ میں سے کم کر دیا جائے۔مثلاً کسی جماعت کی ترقی بارہ یا پندرہ فیصدی ہے تو اس میں سے دس فیصدی کم کرنے کے بعد ہم کہیں گے کہ اس جماعت نے دس فیصدی ترقی کی ہے پھر تمام جماعتوں کا آپس میں مقابلہ کیا جائے کہ تبلیغی طور پر کونسی مجلس اول ہے، تعلیم میں کونسی مجلس اول ہے ، اخلاق کی ترقی میں کونسی مجلس اول ہے ، ہاتھوں سے کام کرنے میں کونسی مجلس اول ہے ،نمازوں کی باقاعدگی میں کونسی مجلس اول ہے۔اس قسم کے مقابلوں سے ایک دوسرے سے بڑھنے کی رُوح ترقی کرے گی اور اگر کسی مجلس کا کام فرض کرو پچھلے سال بھی دس فیصدی تھا اور اس سال بھی دس فیصدی ہے تو اُس کے متعلق سوچنا چاہیئے کہ کیا وجوہ ہیں جو اُس مجلس کی ترقی میں روک ہیں۔پس ایسے ذرائع سوچے جاسکتے ہیں جن سے معتین نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔سات سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے کہ سات سال کے بچے کو نماز پڑھنے کے لئے کہنا چاہئے اور اگر دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھتا ہو تو اُسے مار پیٹ کر نماز پڑھانی چاہئے۔گویا پہلے سات سال ترغیب و تحریص کے ہیں اور اگلے سال میں سختی بھی کی جاسکتی ہے۔پندرہ سال کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض لڑکوں کو جہاد میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔پس اگر آج ساری ذمہ داریاں تم پر نہیں ہیں تو آج سے آٹھ سال کے بعد تمہیں تمام ذمہ داریاں اپنے اوپر لینی ہوں گی اور خدا تعالیٰ کے نزدیک تم ایک ایسے مقام پر پہنچ جاؤ گے جس مقام پر پہنچ کر جہا دفرض ہو جاتا ہے۔