انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 204

۲۰۴ انوارالعلوم جلد ۱۸ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام پس جس دور میں تم داخل ہو رہے ہو نہایت نازک دور ہے اور جوذ مہ داریاں تم پر پڑنے والی ہیں وہ بہت بڑی ہیں گو پہلے بھی تم ذمہ داریوں سے خالی نہیں لیکن آئندہ ذمہ داریاں ان سے بڑھ کر ہوں گی۔میرے نزدیک پچھلے سات سال تم نے ضائع کر دیئے ہیں اگر آئندہ سات سال بھی آپ لوگوں نے ضائع کر دیئے تو آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک موردالزام ہوں گے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور سمجھے سوچ سے کام لیتے ہوئے ہر کام کو پہلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ چلانے کی کوشش کرو۔اندھا دھند قانون بنا دینا کوئی فائدہ نہیں دیتا جب تک کسی قانون کے متعلق یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ واقعی مفید ہے اور ہر جگہ جاری کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اندھا دھند قانون بنانے والوں کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مثل سنایا کرتے تھے کہ ایک ملا تھا اور اُس کے ساتھ اُس کا کنبہ بھی تھا وہ دریا کے کنارے کشتی پر سوار ہونے کے لئے آئے ملاح اُن کے لئے کشتی لینے گیا کشتی چونکہ کنارے کے پاس ہی تھی ملا نے دیکھا کہ ملاح کے ٹخنوں تک پانی آتا ہے اور دریا کی چوڑائی اتنی ہے اس لحاظ سے زیادہ سے زیادہ پانی کمر تک آ جائے گا حالانکہ دریا کے متعلق اس قسم کا اندازہ لگانا حد درجے کی حماقت ہے کیونکہ دریا میں اگر ایک جگہ ٹخنے تک پانی ہو تو اُس کے ساتھ ہی ایک فٹ کے فاصلہ پر بانس کے برابر ہو سکتا ہے مگر اُس ملا نے اربعہ سے نتیجہ نکالا کہ پانی کمر تک آئے گا۔یہ خیال کرتے ہوئے اُس نے کشتی کا خیال چھوڑ دیا اور سب بیوی بچوں کو لے کر دریا عبور کرنے لگا۔ابھی تھوڑی دُور ہی گیا تھا کہ پانی بہت گہرا ہو گیا اور سب غوطے کھانے لگے خود تو وہ تیرنا جانتا تھا اس لئے اُس نے اپنی جان بچالی مگر بیوی بچے سب ڈوب گئے۔دوسرے کنارے پر پہنچ کر پھر ار بعہ لگانے لگا کہ شاید پہلے میں نے اربعہ لگانے میں کوئی غلطی کی ہے لیکن دوبارہ وہی نتیجہ نکلا تو وہ کہنے لگا کہ اربعہ نکلا جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں۔پس بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں اربعہ نہیں لگایا جاسکتا ہر ایک چیز کا اندازہ الگ الگ طریقہ پر کیا جاتا ہے اور ہر ایک بیماری کا علاج الگ الگ ہوتا ہے، خالی قانون بنانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جب تک حالات کو مد نظر نہ رکھا جائے۔پس میں آئندہ نتیجہ دیکھوں گا میں نہیں سنوں گا کہ کون سیکرٹری تھا اور کس نے اُسے سیکرٹری