انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 182

۱۸۲ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی انوارالعلوم جلد ۱۸ سے بہت پہلے کا ہے۔اصل مسائل وہی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا ذہن پاکستان کی طرف پھیرا ہے اور اکھنڈ ہندوستان کے خیالات کے محرک بھی وہی مسائل ہیں جو اس سے پہلے مسلمانوں کے مطالبات کو رڈ کرانے کا موجب رہے ہیں۔کسی شاعر نے جو کچھ اس شعر میں کہا ہے کہ بہر رنگے کہ خواہی جامه می پوش من انداز قدت را شناسم وہی حال اس وقت پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کے دعووں کا ہے۔پس اگر کسی طرح ہندو اور مسلمان قریب لائے جاسکیں تو پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کا آپس میں قریب لا نا بھی مشکل نہ ہوگا ورنہ پاکستان یا اکھنڈ ہندوستان ہوں یا نہ ہوں، پاکھنڈ ہندوستان بننے میں تو کوئی محبہ ہی نہیں۔اس ہندو مسلمان سمجھوتے کی ممکن صورت یہی ہوسکتی تھی کہ ایک جماعت مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندہ ہوا اور ایک جماعت ہندوؤں کی نمائندہ ہو یا ہندوؤں کی اکثریت کی نمائندہ تو نہ ہو یا ایسا کہلانا پسند نہ کرتی ہو مگر اکثر ہندوؤں کی طرف سے سمجھوتہ کرنے کی قابلیت رکھتی ہو اور یہ دونوں جماعتیں مل کر آپس میں فیصلہ کر لیں۔شملہ میں ایسا موقع پیدا ہو گیا تھا مسلمانوں کی طرف سے مسلم لیگ اور ہندوؤں کے جذبات کی نمائندگی کے لئے کانگرس ایک مجلس میں جمع ہو گئی تھیں مگر افسوس کہ یہ اجتماع مزید افتراق کا موجب بن گیا۔کانگرس کا دعویٰ ہے کہ وہ سب اقوام کے حقوق کی محافظ ہے اور ہم اس دعوی کو رد کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے مگر باوجود اس کے کانگرس اس امر کا انکار نہیں کر سکتی کہ جو مسلمان یا سکھ یا عیسائی کانگرس میں شامل ہیں وہ مسلمانوں یا سکھوں یا عیسائیوں کی اکثریت کے نمائندے نہیں۔پس کانگرس اگر یہ دعویٰ کرے کہ ہم جو سوچتے ہیں یا ہم جو سکیم بناتے ہیں اس میں اُسی طرح سکھوں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کا خیال رکھتے ہیں جس طرح ہندوؤں کا خیال رکھتے ہیں تو بحث ختم کرنے کے لئے ہم اس دعوی کو بھی سچا تسلیم کر لینے کے لئے تیار ہیں لیکن کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے مفاد کا دیانت داری سے خیال رکھنا یا ایسا کرنے کا دعویدار ہونا اُسے اُس کی نیابت کا حق نہیں دے دیتا۔کیا کوئی وکیل کسی عدالت میں اس دعوی کے ساتھ پیش ہوسکتا ہے کہ میں مدعی یا مدعا علیہ کے مقرر کردہ وکیل سے زیادہ سمجھ اور دیانت داری سے اس