انوارالعلوم (جلد 18) — Page 181
انوار العلوم جلد ۱۸ ΙΔΙ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی ( رقم فرموده ۲۱ /اکتوبر ۱۹۴۵ء) جیسا کہ احباب کو معلوم ہے تھوڑے ہی دنوں میں تمام ہندوستان میں پہلے تو ہندوستان کی دونوں کو نسلوں کے لئے ممبروں کے انتخاب کی مہم شروع ہونے والی ہے اور اس کے بعد صوبہ جاتی انتخابات شروع ہونے والے ہیں۔میری اور جماعت احمدیہ کی پالیسی شروع سے یہ رہی ہے کہ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں اور دوسری اقوام میں کوئی باعزت سمجھوتہ ہو جائے اور ملک میں محبت اور پیار اور تعاون کی روح کام کرنے لگے مگر افسوس کہ اس وقت تک ہم اس غرض میں کامیاب نہیں ہو سکے۔شملہ کا نفرنس ایک نادر موقع تھا مگر اسے بھی کھو دیا گیا اور بعض لوگوں نے ذاتی رنجشوں اور اغراض کو مقدم کرتے ہوئے ایسے سوال پیدا کر دیئے کہ ملک کی آزادی کئی سال پیچھے جا پڑی اور چالیس کروڑ ہندوستانی آزادی کے دروازہ پر پہنچ کر پھر غلامی کے گڑھے کی طرف دھکیل دیئے گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔جہاں تک میں نے سوچا ہے اصل سوال ہندوؤں اور مسلمانوں کے اختلافات کا ہے۔میرا مطلب یہ نہیں کہ دوسری اقوام کے مفاد نظر انداز کئے جاسکتے ہیں بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ دوسری اقوام کے مفاد اس جھگڑے کے طے ہو جانے پر نسبتاً سہولت سے طے ہو سکتے ہیں۔سب سے مشکل سوال ہندو مسلم سمجھوتے کا ہی ہے اور یہ سوال پاکستان اور اکھنڈ ہندوستان کے مسائل