انوارالعلوم (جلد 18) — Page 160
انوارالعلوم جلد ۱۸ 17۔قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید کر بیٹھتے ہیں۔مجھے بھی اپنے بچپن کی ایک جہالت یاد ہے۔جب میں چھوٹا بچہ تھا تو جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بعض دشمن آتے اور آپ پر اعتراض کرتے تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نہایت سادگی سے بات کرتے تھے بعض دفعہ مجھے یہ وہم ہوتا تھا شاید آپ اُس شخص کی چالا کی کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے مگر جب دشمن مخالفت میں بڑھتا جاتا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی آسمانی طاقت نے آپ پر قبضہ کر لیا ہے اور آپ اس شان سے جواب دیتے کہ مجلس پر سناٹا چھا جاتا تھا۔ایسی ہی بے وقوفی ان لوگوں کی ہے جو اس وقت کہ جب کوئی شخص قرآن شریف پر اعتراض کرے تو کہتے ہیں چپ ہو جاؤ ورنہ تمہارا ایمان ضائع ہو جائے گا حالانکہ یہ فضول بات ہے۔چاہئے تو یہ کہ قرآن شریف پر جو اعتراض ہوں ان کے جوابات ایسے دیے جاویں کہ دشمن بھی ان کی صداقت کو مان جائے نہ یہ کہ اعتراض کرنے والے کو اعتراض کرنے سے منع کر دیا جائے اور شکوک کو اُس کے دل میں ہی رہنے دیا جائے۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک بات خوب یاد ہے میں نے کئی دفعہ اپنے کانوں سے وہ بات آپ کے منہ سے سنی ہے۔آپ فرمایا کرتے کہ اگر دنیا میں سارے ابو بکر جیسے لوگ ہوتے تو اتنے بڑے قرآن شریف کی ضرورت نہیں تھی۔صرف بسم اللہ کی ب کافی تھی۔قرآن کریم کا اتنا پر معارف کلام جو نازل ہوا ہے یہ ابو جہل کی وجہ سے ہے۔اگر ابو جہل جیسے انسان نہ ہوتے تو اتنے مفصل قرآن شریف کی ضرورت نہ تھی۔غرض قرآن کریم تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس پر جتنے اعتراضات ہوں گے اتنی ہی اس کلام کی خوبیاں ظاہر ہوں گی۔پس یہ ڈر کہ اعتراض مضبوط ہوگا تو اس کا جواب کس طرح دیا جائے گا ایک شیطانی وسوسہ ہے۔کیا خدا کے کلام نے ہمارے ایمان کی حفاظت کرنی ہے یا ہم نے خدا کے کلام کی حفاظت کرنی ہے؟ وہ کلام جس کو اپنے بچاؤ کے لئے انسان کی ضرورت ہے وہ جھوٹا کلام ہے اور چھوڑ دینے کے لائق ، ہمارے کام کا نہیں۔ہمارے کام کا وہی قرآن شریف ہے جس کی حفاظت کیلئے کسی انسان کی ضرورت نہ ہو بلکہ اس کا محافظ خدا ہواور اس پر جو اعتراض ہو وہ خود اُس کو دور کرے اور اپنی عظمت آپ ظاہر کرے ہمارا قرآن کریم ایسا ہی ہے۔ہاں ہمیں یہ