انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 161

انوار العلوم جلد ۱۸۔قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید ضرور چاہئے کہ نہ اعتراض کو اس کی حقیقت سے چھوٹا کریں اور نہ ہی حقیقت سے باہر لے جا کر بڑا بنا دیں بلکہ ہمیں چاہئے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو موازنہ کی طاقت دی ہے اس سے کام لیں۔اگر موازنہ میں غلطی کرو گے اور اعتراض کو اُس کی عقلی حدود سے بڑھا دو گے تو ضرور تمہارے دل پر زنگ لگ جائے گا اور اگر اعتراض کو بلا وجہ کم کر دو گے تو تمہارے دماغ کو زنگ لگ جائے گا۔اور اگر بے دلیل اعتراض بناؤ گے تو تمہاری روحانیت کو زنگ لگ جائے گا۔درمیان میں جو پل صراط کا راستہ ہے اُس پر چل کر ہی تم کامیابی کا منہ دیکھ سکتے ہو اور قرآنی علوم کو حاصل کر سکتے ہو۔آپ کو چاہئے کہ اس نکتہ کو یا درکھیں اور اس پر عمل کر کے قرآن کریم کی تفسیر سیکھیں اور اس کے علوم حاصل کریں اور اس علم کو بڑھائیں۔اگر آپ وہی باتیں بیان کریں گے جو آپ نے اپنے استاد سے سنی ہیں تو آپ کی مثال اُس زمین کی سی ہوگی جو پانی پی کر پانی اُگل دیتی ہے۔لیکن اگر آپ اُن باتوں کو جو آپ نے اپنے اُستاد سے سنی ہیں ضرورت کے مطابق ایک نئی شکل دینے میں کامیاب ہوں گے تو آپ کی مثال اُس زمین کی سی ہوگی جو پانی پیتی ہے اور اس کے بعد سبزیاں نکالتی ہے۔پس میں اس نصیحت کے ساتھ اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی اور دوسرے لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں اُن پر بھی اپنے فضل نازل کرے قرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور یہ بھی توفیق عطا فرمائے کہ آپ اس کو سمجھ کر ہر نئے اعتراض کے وقت ایک نئے علم کو دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔نادان کہتے ہیں کہ کسی نئی بات کی کیا ضرورت ہے اگر اس کی ضرورت تھی تو کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم نہیں تھا کیا وہ اسے بیان نہیں کر سکتے تھے؟ نادان نہیں جانتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے کلام کا پانی لے کر آئے اور جس طرح زمین پانی پیتی ہے اور سبزیاں بنا کر اُسے اُگل دیتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے کلام کے مفہوم کو نیک انسان ہمیشہ وقت کی ضرورت کے مطابق ایک نئی شکل میں پیش کرتے رہیں گے ہاں اس تعلیم کو کوئی شخص بدل نہیں سکتا۔جس طرح پانی زمین میں جذب ہوتا ہے اور جذب ہو کر زمین میں سے سبزیاں نکالتا ہے اور اس سے پانی ہی کی عظمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح قرآن کریم کے محل الفاظ کا انسانی دماغ میں داخل ہو کر اس